پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں 3 گنا اضافے کا انکشاف

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان متعدد ایچ آئی وی وباؤں کا مرکز رہا ہے،تاہم گزشتہ آٹھ سے دس برسوں میں پاکستان میں ایچ آئی وی انفیکشنز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق 2025 میں ملک میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے 5 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2015 میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی کم تھی، یعنی چند سالوں میں ایچ آئی وی کیسز تقریباً تین گنا ہو چکے ہیں جبکہ اسی دوران رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 81,847 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے صرف 58,622 افراد کو باقاعدہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو تاحال وائرس کی تشخیص یا علاج سے محروم ہے، ایچ آئی وی متاثرین کی بڑھتی تعداد ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ اور اس کے کنٹرول میں ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ جان لیوا ایچ آئی وی انفیکشن کا دنیا بھر میں کوئی علاج موجود نہیں ہے، تاہم موثر ایچ آئی وی روک تھام، تشخیص، علامتوں کے علاج اور دوسرے ہونے والے انفیکشنز کے علاج سے ایچ آئی وی انفیکشن کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہے انفیکشن کے موثر علاج سے ایچ آئی وی کے ایڈز میں تبدیل ہونے کےخطرے کو کم کیا جا سکتا ہے جبکہ علاج کی عدم دستیابی سے مریض موت کے منہ میں بھی جا سکتا ہے۔
تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟ ماہرین کے مطابق پاکستان میں انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے، ہم جنس پرست مرد، قیدی، ٹزانسجنڈر اور خواتین جنسی کارکنان پر مشتمل گروہوں میں ایچ آئی وی پھيلنے کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ انفیکشن کنٹرول کے ناقص طریقے، غیر منظم اور غیر محفوظ خون کی منتقلی، صحت کے شعبے میں اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی، عوامی سطح پر آگاہی کی شدید کمی اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کی موجودگی کی وجہ سے یہ وائرس ایک وباء کی شکل میں پھیل رہا ہے،اگرچہ حکومت متاثرہ مریضوں کی رجسٹریشن اور علاج کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، لیکن مجموعی کیسز کے مقابلے میں علاج تک رسائی رکھنے والے افراد کی تعداد اب بھی بہت کم ہے، جس سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایچ آئی وی متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ حکومت کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔
ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو مؤثر اور پائیدار طریقے سے روکنے کے لیے جارحانہ اور کثیر سطحی اقدامات درکار ہیں۔ ان اقدامات کے تحت نہ صرف ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور علاج کی صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے اقدامات کئے جانے چاہیں بلکہ بنیادی سماجی و انفراسٹرکچر سے جڑے مسائل کو بھی حل کرنا چاہیے تاکہ اس وباء کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ماہرین کے بقول صرف پاکستان میں ہی ایچ آئی وی تیزی سے نہیں پھیل رہا عالمی سطح پر بھی ایچ آئی وی متاثرہ مریضوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024ء کے اختتام تک دنیا بھر میں 4 کروڑ 8 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، جن میں سے تین چوتھائی سے زیادہ کو وائرس سے لڑنے کے لیے ادویات دستیاب تھیں جبکہ اسی دوران تقریباً 6 لاکھ 30 ہزار افراد ایڈز سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوئے جبکہ 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 13 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے، جس کا اگر علاج نہ کیا گیا تو یہ وائرس ایڈز کا سبب بن سکتا ہے۔
