پاکستان نے امریکہ کی مخالفت مول لینے کا فیصلہ کر لیا؟

پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کو سرخ جھنڈی دکھا کر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا یا سعودی عرب کے تحفظات ہمارا مسئلہ نہیں، ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد میں کریں گے ۔ پاکستان اپنے معاملات پر کسی بھی ملک کو ویٹو کی اجازت نہیں دے گا،ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر فیصلہ ملکی مفاد میں کریں گے ۔

دوسری جانب ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران اس وقت ایسے رستوں کی تلاش میں ہیں، جن پر چل کر دونوں ممالک کے مابین طویل عرصے سے تعطل کا شکار قدرتی گیس کی پائپ لائن کا منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔

ایرانی حکام کے مطابق، ”ہمیں پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے سیاسی عزم دکھائی دے رہا ہے کہ وہ اس منصوبے کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔‘ اسلام آباد اور تہران دونوں ہی اس وقت ایسے راستوں اور امکانات کی تلاش میں ہیں، جن پر چل کر اس مشترکہ پائپ لائن منصوبے کو اس کی تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد اور تہران نے ایران میں جنوبی فارس کے گیس فیلڈ سے پاکستان میں صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ تک ایک گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر دستخط 2010ء میں کیے تھے۔ لیکن اس منصوبے کے پاکستانی حصے میں اس پائپ لائن کی تعمیر پر کام امریکہ کی طرف سے ممکنہ طور پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے خوف سے رکا ہوا ہے۔اس 1900 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے پاکستان کو روزانہ بنیادوں پر 750 ملین سے لے کر ایک بلین کیوبک فٹ تک قدرتی گیس 25 سال کے عرصے تک مہیا کی جانا تھی تا کہ پاکستان اپنی مسلسل بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پورا کر سکے۔

تہران حکومت کے مطابق وہ ایرانی علاقے میں اس پائپ لائن کی تعمیر پر اب تک دو بلین ڈالر کے برابر سرمایہ کاری کر چکی ہے مگر پاکستان نے امریکی پابندیوں کی وجہ سے اپنے علاقے میں اس پائپ لائن کے باقی ماندہ حصے کی تعمیر شروع بھی نہیں کی۔

خیال رہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تعمیر کے معاہدے پر دستخطوں کے چار سال بعد 2014ء میں پاکستان نے ایران سے اس لیے مزید دس سال کی توسیعی مدت کی درخواست کر دی تھی کہ وہ اس منصوبے کا اپنے ذمے حصہ تعمیر کر سکے۔ یہ دس سالہ اضافی مدت بھی اس سال ستمبر میں پوری ہو جائے گی۔قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان نے اگر تب تک بھی اس منصوبے کا اپنے ذمے حصہ تعمیر نہ کیا، تو ایران اصولی طور پر پاکستان کو کسی بین الاقوامی عدالت میں بھی لے جا سکتا ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ تہران اس سلسلے میں اسلام آباد کے خلاف قانونی کارروائی بھی کر سکتا ہے، انوارالحق کاکڑ کی نگران حکومت نے یہ اصولی منظوری دے دی تھی کہ پاکستان میں اس پائپ پائن کے ایک سو 80 کلومیٹر طویل حصے کی تعمیر شروع کر دی جائے۔لیکن پاکستان کو چونکہ پھر بھی یہ خطرہ تھا کہ اس منصوبے پر کام کرنے سے وہ ایران کے ساتھ تعاون کے باعث ممکنہ امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے، اس لیے مارچ میں پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وہ امریکہ سے درخواست کرے گا کہ اس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے واشنگٹن اسے ممکنہ پابندیوں سے استثنیٰ دے دے۔پاکستانی حکومت کی اس خواہش کے جواب میں امریکہ نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ اس پاکستانی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرتااور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کر دی گئی تھی کہ ایران کے ساتھ کاروباری تعاون بارے کوئی بھی فیصلہ کرتے ہقئے پاکستان کو اپنے خلاف پابندیوں کے خطرے کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

تاہم پاکستانی حکام کے مطابق یہ مشترکہ پائپ لائن منصوبہ تہران پر عائد کردہ بین الاقوامی پابندیوں کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور پاکستان ملکی مفاد میں اس منصوبے کو جلد مکمل کرے گا۔

Back to top button