پاکستان نے جو کرنا تھا کرلیا اب اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معاہدے کے بعد سب کا خیال تھا راستہ آسان نہیں دشواریاں آئیں گی لیکن امن کے راستے میں آنے والی دشواریوں کا حل نکالنا ہوگا، اس وقت افغان قیادت پر آزمائش ہے، دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں۔ امن معاہدے کےلیے پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا کردیا اور اب اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے، اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ قیدیوں کا تبادلہ امن معاہدے میں موجود ہے، رہائی یک طرفہ نہیں ہوگی، دونوں طرف سے قیدی رہا ہوں گے، افغان قیادت کو لچک دکھانی پڑے گی کیوں کہ ہٹ دھرمی سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ صرف معاہدہ کافی نہیں ہے، رویے بھی درست کرنے پڑتے ہیں، ماحول خراب کرنے والے ہمیشہ تھے اور رہیں گے، سیاسی قیادت کا کام ہے کہ ماحول خراب کرنے والوں کو ناکام بنائیں۔
خیال رہے کہ 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کےلیے تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔
دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button