پاکستان نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو بھارت نے دشمنی کا

بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کی طرف سے بڑھنے والے دوستی کے ہاتھ کو جھٹک کر دشمنی کا مظاہرہ کردیا ہے۔
کرتار پور راہداری کے افتتاح سے دو روز پہلے بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے ھرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ راہداری کے حوالے سے پاکستان کے ‘خفیہ ایجنڈے’ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق وزیر اعلیٰ کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ ‘ایک طرف وہ ہمیں پیار دکھا رہے ہیں اور دوسری طرف گڑبڑ کر رہے ہیں۔ ہمیں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔’ انھوں نے یہ باتیں پاکستان میں ایک مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد کہی ہیں جن میں پنجاب کی علیحدگی پسند تحریک خالصتان کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کو دکھایا گیا ہے جو کہ آپریشن گولڈن ٹمپل میں مارے گے تھے اور سکھ علیحدگی پسند انہیں شہید مانتے ہیں۔ ارمیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو پاکستان میں کرتارپور آنے والے سکھ زائرین کے خیر مقدم کے لیے جاری کی گئی ہے۔
بھارت اخبار انڈین ایکپسریس کے مطابق اس ویڈیو میں نظر آنے والے پوسٹر میں خالصتانی رہنماؤں جرنیل سنگھ بھنڈراں والا، میجر جنرل صاحب سنگھ اور امریک سنگھ خالصہ نظر آ رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ وڈیو پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ اس پوسٹر پر جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کی تصویر دکھائی دے رہی ہے۔ علیحدگی پسند رہنما بھنڈراں والا سنہ 1984 میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں ’آپریشن بلیو سٹار‘ میں مارے گئے تھے۔
ویڈیو میں نظر آنے والے پوسٹر میں ‘ریفرنڈم 2020’ بھی لکھا گیا ہے۔ علیحدہ خالصتان کا مطالبہ کرنے والے استصوابِ رائے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ انڈیا میں بھنڈراں والا کو شدت پسند رہنما کہا جاتا ہے جو دمدمی ٹکسال کے رہنما تھے۔ وہ سنہ 1978 میں سکھ نرنکاری تصادم سے منظر عام پر آئے تھے۔ انھیں پنجاب میں سکھوں کے احیا اور شدت پسندی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مارے جانے سے قبل گرفتاری سے بچنے کے لیے انھوں نے اکال تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ میجر جنرل صاحب سنگھ انڈیا کی فوج میں تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے خالصتانی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کے دمدمی ٹکسال میں شامل ہوئے اور ان کے فوجی مشیر بھی بنے۔ صاحب سنگھ نے آپریشن بلو سٹار کے دوران سکھ جنگجوؤں کو گولڈن ٹمپل کے حصار کو برقرار رکھنے کے لیے منظم کیا۔ اپنی ملازمت کے دوران انھوں نے پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کی لڑائی میں بنگلہ دیش کی ملیشیا مکتی باہنی کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس پوسٹر میں علیحدگی پسند رہنما امریک سنگھ بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما تھے۔ وہ گیانی کرتار سنگھ بھنڈراں والا کے بیٹے تھے اور کرتار سنگھ دمدی ٹکسال کے 13 ویں لیڈر تھے۔ امریک سنگھ خالصہ قدامت پسندی کے حق میں تھے اور وہ گربانی اور سکھ مذہب کی ادبیات کا ادراک رکھتے تھے۔ سنہ 1979 میں انھوں نے شریمونی گوردوارہ پربندھک کمیٹی یا انتظامیہ کے انتخابات میں بھی شرکت کی لیکن وہ جیون سنگھ کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئے۔ عیلحدہ ملک خالصتان کا مطالبہ کرنے والے ان تینوں رہنماؤں کی موت آپریشن بلو سٹار میں چھ جون سنہ 1984 کو ہوئی۔
انڈیا میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گذشتہ کئی گھنٹوں سے ‘خالصتانی’ ٹرینڈ چل رہا ہے۔ ٹوئٹر صارف ریٹائرڈ میجر گورو آریا نے لکھا ’امرتسر میں سدھو اور عمران کا پوسٹر نظر آ رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کرتارپور راہداری سکھ زائرین کے لیے نہیں بلکہ پنجاب میں خالصتانی دہشت گردی کو پھر سے شروع کرنے کے لیے چاہتا ہے۔ سدھو کی شکل میں اسے صحیح میر جعفر مل گیا ہے۔ اب انڈیا کو ایک دوسرے کے پی ایس گل کی ضرورت ہے۔’ ایک صارف یاسر محمود نے لکھا کہ ‘کیا آپ انڈیا کے سکھوں کو روبوٹ سجھتے ہیں جس میں پاکستان بہ آسانی خالصتانی مالويئر داخل کر دیں گے۔ یہ تشویش انڈیا کے اپنے سکھ باشندوں پر اعتماد کی کمی کی وجہ سے ہے۔’
