پاکستان نے سعودی عرب کا ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

پاکستان نے سعودی عرب سے3 ارب ڈالر ڈیڑھ سال قبل قرضہ لیا تھا، اس میں سے ایک ارب ڈالر قرض کی رقم واپس کردی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے عالمی قرضوں کی ادائی میں ڈیفالٹ کر جانے کے ڈر سے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کا قرضہ واپس کردیا ہے۔
کیوں کہ سعودی عرب نے مالی امداد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان نے ایک ارب ڈالر قرض واپس کردیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب سے3 ارب ڈالر ڈیڑھ سال قبل قرضہ لیا تھا۔ جس میں سے ایک ارب ڈالر قرض کی رقم واپس کردی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ چونکہ سعودی عرب نے مالی امداد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کےلیے دیرینہ دوست چین نے ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو اکتوبر 2018ء میں 3 سال کےلیے 6.2 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا۔ جس میں ڈیڑھ سال قبل3.2 ارب ڈالر رقم نقد اور مئوخر ادائی پر تیل اور گیس کی سہولت شامل تھی۔ دوسری جانب کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کی کوششوں کے ضمن میں اسٹیٹ بینک کے قرضہ موخرو ری شیڈول کرنے کی اسکیم کے تحت اب تک 6 کھرب، 36 ارب ،76کروڑ، 70 لاکھ روپے مالیت کے قرضوں کو ایک سال کےلیے موخر کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بنک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری اعداد و شمارکے مطابق اصل زر کی ادائی ایک سال کےلیے مؤخر کرنے کی اسکیم کے تحت 30 جولائی تک اسٹیٹ بینک کو 12لاکھ، 95 ہزار 821 درخواستیں موصول ہوئی جن کے ذمہ واجب الادا قرضہ کا حجم 24 کھرب 90 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، ان میں سی 12 لاکھ 32 ہزار، 480 درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے اور6 کھرب، 36 ارب ،76کروڑ، 70 لاکھ روپے مالیت کے قرضوں کو ایک سال کےلیے موخر کردیا گیا۔
اسی طرح اس اسکیم کے تحت ایک کھرب ،63 ارب 93 کروڑِ روپے سے زائد کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ/ ری شیڈولنگ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت صارف قرض کا اصل زر ایک سال موخر کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ سہولت ان صارفین کےلیے ہیں جن کی ادائی 31 دسمبر تک باقاعدہ ہوں ہو، قرض ادائی موخر کرنے پر بینک کوئی فیس یا سود چارج نہیں کریں گے۔ بینکس اس دوران صرف سود یا منافع کی وصولی کر سکیں گے، جو صارفین سود یا منافع کی رقم ادا نہ کرسکیں وہ ری اسٹرکچر نگ کی درخواست کرسکتے ہیں۔ قرضوں کو موخر یا ری شیڈول کرنے سے کریڈٹ ہسٹری متاثر نہیں ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button