پاکستان پر الزام تراشی پر بھارتیوں نے اپنے ہی جنرل کی درگت بنادی

بھارتی لیفٹیننٹ جنرل نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کورونا وائرس پھیلا رہا ہے جس سے وادی کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس بیان کے بعد پاکستان سمیت بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بھی لیفٹیننٹ جنرل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
چین کے شہر وہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس کےبعد ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی تباہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی تک دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 1 لاکھ 34 ہزار افراد کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی دوران مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بگاوالی سوماشیکھر راجو نے ایک انٹرویو میں پاکستان پر الزام عائدکیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان اپنے شہریوں کو داخل کر رہا ہے جس سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے جس سے وادی میں کورونا پھیلنے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری انٹیلی جنس رپورٹ ہے۔


ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستان سمیت بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بھی اپنے ہی لیفٹیننٹ جنرل کو تنقید کا نشانہ بنا دیا۔ بھارتی مصنف اور سابق فوجی افسر پروین ساوہنے نے اپنے ہی فوجی جنرل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارتی 15 کور کے کمانڈر بغیر کسی ثبوت کے کہتے ہیں کہ پاکستان کورونا متاثرہ افراد کو کشمیر میں داخل کررہا ہے، مجھے حیرانگی ہے ایسے شخص کو اتنا بڑا عہدہ کیسے دیدیا گیا جو ایسی سوچ رکھتا ہو، بغیر ثبوتوں کے جوان ایسی باتیں لنگر خانے میں کرتے ہیں‘


تنقید کرتے ہوئے ایک اور بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ ہمارے لیفٹننٹ جنرل نے پاکستانی مجاہدین پرالزام تو لگا دیا ہے، مگر انہیں شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ جس شخص میں کورونا وائرس ہو گا وہ صحیح سے چل بھی نہیں سکتا۔


ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسے لیفٹیننٹ جنرل پر ترس کھاناچاہیئے، ہو سکتا ہےکہ وہ خوف کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہوں اس لئے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔


دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی اس انٹرویو کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ انٹرویو حقائق کے مترادف ہے، اس کا مقصد عوام کی توجہ موجودہ صورت حال سے ہٹانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button