پاکستان پر قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی کے 90 فیصد تک پہنچنےکا امکان

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے ملکی مالی صورتحال بارے شدید خدشات کا اظہار کر دیا. آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال قرضوں کا بوجھ پاکستان کے جی ڈی پی کے 90 فیصد تک ہوسکتا ہے.
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895 ارب روپے کمی کا خدشہ ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستانی معیشت کے بارے میں جاری کردہ جامع رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے باعث خسارے میں اضافہ ہوگا اور آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 50 کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ شرح نمو منفی رہنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہےآئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق رواں برس 16 ارب 83 کروڑ ڈالر جبکہ آئندہ مالی سال 13 ارب 86 کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں شیڈولڈ ہیں، پاکستان کو دوست ممالک کے 7 ارب 90 کروڑ ڈالر واپس کرنے ہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے پاکستان کو قرضوں میں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔پاکستان نے چین کو 3 ارب 48 کروڑ، سعودی عرب کو ڈھائی ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے بعد پاکستان کے ترقیاتی کاموں کے اخراجات متاثر ہوں گے۔
عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقوں کے لیے ریلیف احسن اقدام ہے اور کاروباری طبقے کے لیے قرضوں کی واپسی موخر کرنا بھی خوش آئند ہے۔
کورونا وائرس کی عالمی وباء کے تناظر میں آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال پاکستان کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں 11.9ارب ڈالرز کمی آسکتی ہے جبکہ پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895 ارب روپے کمی کا خدشہ ہے۔
حکومت نے سالانہ ٹیکس ہدف 5555 ارب روپے رکھا تھا لیکن آئی ایم ایف کے پہلے جائزے کے بعد ہدف کم کرکے 5238 ارب روپے کردیا گیا۔ دوسرے جائزے کے حوالے سے آئی ایم ایف نے اس میں مزید کمی کرکے 4803 ارب روپے کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن کرونا وائرس کے بعد آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے لیے ٹیکس ہدف جون، 2020 تک 3908 ارب روپے کردیا ہے۔یہ گزشتہ مالی سال کی مجموعی ٹیکس آمدنی 3832 ارب روپے سے کچھ زیادہ ہے۔اس طرح نظرثانی شدہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف سے 0.892 کھرب روپے کے کم ٹیکس کی وصولی متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2019-20ء کے لئے جی ڈی پی کے 10.9 فیصد کے مساوی ٹیکس محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم اقتصادی دبائو اور کاروباری و صنعتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کے مقابلہ میں 9.3 فیصد کی ٹیکس وصولیاں متوقع ہیں۔
آئی ایم ایف نے کورونا کی عالمی وباء سے قبل آئندہ مالی سال کے لئے پاکستان کے ٹیکس محصولات کا تخمینہ 6.138 کھرب روپے لگایا تھا تاہم وباء کے بعد کی صورتحال کے بعد عالمی مالیاتی ادارے نے آئندہ مالی سال 2020-21ء کے لئے پاکستان کے ٹیکس محصولات 5.101 کھرب روپے تک رہنے کی توقع کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاو کے بعد آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے نہ صرف ایک ارب اڑتیس کروڑ ڈالرز کی منظوری دی بلکہ ساتھ ہی تمام میکرواکنامک اہداف میں بھی کمی کردی ہے، جس میں گرتی ہوئی جی ڈی پی نمو، بجٹ خسارہ خصوصاً پرائمری خسارہ ، بڑھتے قرضوں کا دبائو، ترسیلات زر میں کمی، برآمدات اور سرمایہ کاری شامل ہے۔
