پاکستان پہنچنے والے موذی کرونا وائرس سے کیسے بچیں؟

بالآخر وہی ہوا جس کا ڈرتھا. ہلاکت انگیز کرونا وائرس وبا کی شکل اختیار کرتا چین سے ہوتا ہوا ایران کے راستے پاکستان پہنچ چکا ہے اور عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدید عارضے میں مبتلا کرنے والا وائرس اب 38 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ چین میں اب تک کورونا وائرس سے 78 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2700 ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ ابھی تک کورونا کے صرف دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے تاہم امکان ہے کہ جوں جوں عوام میں اس حوالے سے آگاہی بڑھے گی اور ٹیسٹ ہونا شروع ہوں گے، کورونا وائرس کے مزید مریض بھی سامنے آئیں گے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے ایران اور افغانستان سے ملحق سرحدوں کے علاوہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سکریننگ بڑھا دی گئی ہے اور لوگوں کو ایئر پورٹوں پر ہی چیک کرنا شروع کردیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق کورونا وائرس بظاہر بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔ ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے کچھ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی نوبت آ جاتی ہے۔ اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق انفیکشن کے لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 دنوں پر محیط ہے۔
لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ چینی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کچھ لوگ خود میں علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس بیماری سے مرنے والوں کی شرح ایک سے دو فیصد رہی لیکن ان اعداد پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے اور شاید کچھ مر بھی جائیں اس لیے شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی پھلکے علامات والے کتنے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات کم بھی ہو سکتی ہے۔
تاحال کو رونا وائرس کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے، مریض کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم کر کے، تاوقتیکہ اس کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے۔ تاہم اس کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمانی شروع کر دی جائے گی جبکہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے وائرس کے خلاف پہلے سے موجود دواؤں کا استعمال شروع کر رکھا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کے آیا ان کا کوئی اثر ہے۔
کرونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئےعالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے لوگ اپنے ہاتھ ایسے صابن یا جیل سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔ کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں، بہتر ہوگا کہ ٹشو سے، اور اس کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔ کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ ان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل سکتے ہیں جو کہ فضا میں ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں۔ اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ طبی حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔
دنیا بھر میں روزانہ ہزاروں نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ وائرس اس سے کہیں بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہو گا اور کم از کم اس سے 10 گنا زیادہ جتنا کہ سرکاری اعداد و شمار میں بتایا جا رہا ہے۔ کو رونا وائرس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ عالمی وبا بن جائے گی۔ کسی بھی انفیکشن کو عالمی وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب سے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل کر خطرہ بن جاتی ہے۔ اور پاکستان میں اس موذی وائرس کی آمد اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button