پاکستان کا بھارت سے مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ

پاکستان نے ہندوستانی حکومت سے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ، سکیورٹی اور حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم کی سفارشات سمیت انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور دیگر بین الاقوامی مندرجات کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل کی ہے۔
اتوار کو دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آج ہندوستان میں تاریخی بابری مسجد کے انہدام کی غمناک یاد کا دن ہے، آج کے دن ٹھیک 28 سال قبل آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہندو انتہاپسند مذہبی جماعتوں نے ریاستی حمایت سے مذہبی اور بین الاقوامی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ایودھیا میں صدیوں پرانی مسجد کو منہدم کردیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری ،اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی شدت پسند ‘ہندوتوا’ حکومت سے اسلامی ثقافتی ورثہ کے تحفظ کےلیے اپنا کردار ادا کریں اور بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ترجمان نے کہا کہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے تکلیف دہ مناظر آج بھی نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا کے تمام باشعور افراد کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت ہندو توا نظریے پر عمل پیرا ہو کر ہندوستان کو ‘ہندو راشٹریہ’ میں تبدیل کرنے پر تلی ہے جو نام نہاد ‘دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت’ کے چہرے پر بد نما داغ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2019 میں بابری مسجد کیس میں ہندوستانی سپریم کورٹ کے غلط فیصلے نہ صرف انصاف پر اعتقاد کی برتری بلکہ آج کے ہندوستان میں بھی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں میں بڑھتی ہوئی اکثریت پسندی کی عکاسی کرتے ہیں جو مسلسل حملے کی زد میں ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے ذمہ دار مجرموں کی حالیہ شرمناک بریت سے انصاف کے ایک اور اژدہام کی نمائندگی ہوئی۔ دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بابری مسجد کے مقام پر مسلمانوں کے مخالف شہری شہریت ترمیمی قانون کے تحت بابری مسجد کے مقام پر ایک مندر کی تعمیر شروع کرنے میں انتہائی عجلت، مسلمانوں کو آزادی سے محروم کرنے کےلیے مسلمان مخالف سٹیزن ترمیمی ایکٹ، فروری 2020 میں ریاستی کی نگرانی میں دہلی میں مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور دوسرے مسلم مخالف اقدامات نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ کس طرح ہندوستان میں مسلمانوں کو منظم طریقے سے بے دخل، پسماندہ اور ہدف بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم نے متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں تاریخی مسجد کو منہدم کرنے کے گھناؤنے اقدام کی مذمت کی گئی ہے، حال ہی میں نیامے میں منعقدہ وزرائے خارجہ کونسل کے 47 ویں اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تاریخی مسجد کی تعمیر نو کےلیے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کےلیے فوری اقدامات کرے، بابری مسجد کو اپنے اصل مقام پر تعمیر کرے اور انہدام کے ذمے داروں کو سزا دے اور دیگر 3ہزار مساجد اور مسلمانوں و اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے فوری اقدامات کرے۔
