پاکستان کا دوسرا سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم 1 خلا میں لانچ کر دیا گیا

ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان نے ایک اور کامیابی حاصل کر لی۔ پاکستان کا دوسرا کمیونی کیشن سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم 1 خلا میں لانچ کر دیا گیا۔عظیم سنگ میل عبور کرنے پر و زیر اعظم شہباز شریف نے قوم کو مبارکباد دی۔
جدید ترین مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم 1 پاکستان نیشنل سپیس ایجنسی اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) اور نیشنل سپیس ایجنسی کی جانب سے خلا میں لانچ کیا گیا۔ یہ سیٹلائٹ چین کے تعاون سے خلا میں بھیجا گیا ہے جس کے بعد یہ پاکستان کا مدار میں بھیجا جانے والا دوسرا سیٹلائٹ بن گیا ہے۔
سپارکو ترجمان کے مطابق یہ سیٹلائٹ چین کے شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر (ایکس ایس ایل سی) سے لانچ کیا گیا۔
سپارکو کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ ایم ایم 1 سیٹلائٹ سپارکو اور چینی ایرواسپیس انڈسٹری کے باہمی اشتراک سے بنایا گیا ہے۔ اس سیٹلائٹ کو ملک کی مواصلاتی ضروریات کےمطابق تیار کیا گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی میں مدد دے کر پاکستان کو ڈیجیٹل دور میں لے جانے میں مدد دے گا جبکہ ای کامرس، ای گورننس اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ رواں سال اگست میں پاک سیٹ ون ایم ایم 1 سروس شروع کرے گا۔
سپارکو ترجمان کے مطابق 5 ٹن وزنی سیٹلائٹ جدید ترین مواصلاتی آلات سے لیس ہے۔ اس سیٹلائٹ کے ذریعے ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ زمین سے 36 ہزار کلومیٹر کی اونچائی پر مدار میں داخل کیا جائے گا جبکہ اسے زمین سے خلا میں پہنچنےمیں تین سے چار روز لگیں گے۔
چیئرمین سپارکو کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپیس بیسڈآگمینٹیشن پےلوڈ بھی ایم ایم ون پر ہوگا اور بااعتماد پوزیشنگ نیوی گیشن ٹرانس فرنٹیئرسہولیات فراہم کی جاسکیں گی۔ جس کے بعد پاکستان یہ خدمات فراہم کرنے والا گیارہواں ملک بن جائےگا۔
ایک اور سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ پر وزیر اعظم شہباز شریف نے سپارکو اور متعلقہ تمام اداروں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوام جدت،ٹیکنالوجی کےثمرات سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو سائنسدانوں کی شاندار کامیابی پر فخر ہے۔ سیٹلائٹ مدار میں بھیج کر پاکستانی قوم نے ایک عظیم سنگ میل عبور کرلیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ شی چانگ سینٹر سے سیٹلائٹ بھیجنا پاک چین مضبوط شراکت داری کا ثبوت ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام جدت اور ٹیکنالوجی کے ثمرات سے استفادہ حاصل کریں گے۔
ایک اور بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک سیٹ ایم ایم ون کے ملک بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بہت پرجوش ہوں۔ یہ سیٹلائٹ نہ صرف پاکستانی شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لائے گا بلکہ معاشی سرگرمیوں، ای کامرس اور ای گورننس کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ 3 مئی کو چین کے شہر ہینان کے وینچینگ خلائی سینٹر سے پاکستانی سیٹلائٹ آئی کیوب قمر 2 بجکر 27 منٹ پر خلائی سفر پر روانہ ہوا تھا۔آئی کیوب قمر کو انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی نے چین کی شنگھائی یونیورسٹی اور پاکستان نیشنل اسپیس ایجنسی سپارکو کے تعاون سے ڈیزائن اور تیار کیا گیا۔
آئی کیوب قمر چاند کے مدار میں کامیابی سے داخل ہوا تھا اور چاند کی تصویر بھی جاری کی تھی۔
اس وقت پاکستان کے 2 کمیونیکیشن سیٹلائٹس خلاء میں موجود ہیں جن میں سے ایک پاک سیٹ ون آر ہے جس کو 2011 میں لانچ کیا گیا تھا۔اس کی لائف 15سال تھی جو 2026 میں مکمل ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ایک اور ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پی آر ایس ایس ون بھی خلاء میں موجود ہے۔ یہ سیٹلائٹ 2018 میں لانچ کیا گیا تھا۔
