پاکستان کا سری لنکا سے موازنہ درست ہے یا غلط؟

روپے کی آئے روز گرتی قدر، مہنگائی کے طوفان، حکومتی عدم استحکام دور حاضر کے وہ پہلو ہیں جنہوں نے پاکستانیوں کو سری لنکا کی مثالیں دینے پر مجبور کر دیا ہے جوکہ اس وقت ڈیفالٹ کر چکا ہے، یعنی دیوالیہ ہو چکا ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب سب سے بڑا چیلنج ملکی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کو روکنا ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 200 روپے کا ہندسہ عبور کرگیا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کی بحالی میں تاخیر اور پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی سے معاشی حالت کمزور ہوتی جا رہی ہے، چنانچہ پاکستان کی اس صورت حال کا موازنہ سری لنکا کی صورت حال سے بھی کیا جا رہا ہے جہاں حکومت نے شدید معاشی بحران کے بعد دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
لیکن معاشی ماہرین کے خیال میں دونوں ممالک کی معیشت کا براہ راست موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا، انکا کہنا ہے کہ اس وقت شدید معاشی بحران ضرور ہے لیکن پاکستان میں اس قسم کے بحران پہلے بھی آتے رہے ہیں اور یہ بحران سری لنکا سے کسی بھی طرح مشابہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق شدید معاشی بحران کے باوجود بھی پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، اور پاکستان کی موجودہ صورت حال کا سری لنکا کے ساتھ موازنہ کرنا مبالغہ آرائی ہے۔
سری لنکا میں کرونا کے باعث سیاحت کے شعبے کو ہونے والا نقصان معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ تھی وہاں 45 فیصد کے قریب زرمبادلہ سیاحت کے شعبے سے کمایا جاتا تھا جو کہ کرونا کی وجہ سے تقریباً ختم ہوگیا اور اس وجہ سے ملک کو ڈالرز کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن پاکستان میں آمدنی کا اس طرح انحصار کسی ایک شعبے پر نہیں ہے، پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے جو کہ اس وقت بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان میں موجودہ معاشی بحران درآمدات بڑھنے کی وجہ سے ہے جو کہ کنٹرول کی جا سکتی ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ پاکستان کی صورت حال سری لنکا والی نہیں ہے لیکن جس طرح موجودہ حکومت معاشی پالیسی کے حوالے سے فیصلے کرنے میں تاخیر کر رہی ہے، اس میں مزید تاخیر کی گئی تو ہو سکتا ہے کہ ہم اسی طرف بڑھ جائیں۔ یاد رہے کہ سری لنکا ایک چھوٹا سا ملک ہے، وہ تین بلین ڈالرز قرض ادا نہیں کر پا رہے تھے جبکہ پاکستان کی معیشت کا حجم بڑا ہے، سری لنکا کے پاس ڈالرز اتنے کم ہوگئے کہ وہ پٹرول، گیس، ادویات اور کھانے پینے کی اشیا درآمد کرنے کے قابل نہیں رہا تھا جس وجہ سے لوگوں میں مایوسی پھیلتی رہی اور بالآخر انارکی کا ماحول بن گیا۔
دوسری جانب اس وقت پاکستان کے خزانے میں 10 ارب ڈالرز موجود ہیں۔ لہذا پاکستان کی معاشی صورت حال خراب نہیں ہے، صرف درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جنہیں حکومت روک نہیں پارہی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت ڈالرز کما ضرور رہا ہے لیکن بچا نہیں پا رہا، ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، ترسیلات زر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں لیکن ساتھ ہی درآمدات بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، ہمیں ڈالرز بچانے کی ضرورت ہے۔
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر ساجد امین کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان اور سری لنکا کے درمیان مشترک اگر کوئی چیز ہے تو وہ ملک کا موجودہ سیاسی بحران ہے، پاکستان میں سیاسی صورت حال اس وقت سری لنکا جیسی سنگین نہیں وہاں دہائیوں سے چلتا ایک سیاسی مسئلہ چلا آرہا تھا۔ جبکہ یہاں ایک نئی حکومت آئی ہے جو کہ فیصلہ کرنے میں تاخیر کر رہی ہے اور معاشی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ انکاکہنا ہے کہ ابھی تک جو بحران ہے یہ حکومت کے فیصلہ کرنے میں تاخیر کے سبب شدید ہو رہا ہے اگر حکومت آتے ہی وقت پر فیصلے کر لیتی تو مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورت حال نہ ہوتی اور روپے کی قدر اس حد تک نہ گرتی، انکا کہنا ہے کہ اگر آج بھی آئی ایم ایف کا پروگرام بحال ہو جائے تو روپے کی قدر میں بہتری آئے گی اور مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورت حال ختم ہو جائے گی جس سے گرتی ہوئی معیشت سنبھل جائے گی۔
