پاکستان کا کلبھوشن بارے بھارت سے ایک بار پھر سفارتی رابطہ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کو ایک اور موقع دینے کے لیے سفارتی رابطہ کرلیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کو ایک بار پھر کلبھوشن یادیو کے لیے وکیل کرنے کی پیشکش کر دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کیے گئے سفارتی رابط پر بھارت کی جانب سے تاحال جواب نہیں دیا گیا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں کلبھوشن یادیو اور اسے بھیجنے والے ملک بھارت کو وکیل مقرر کرنے کی دوبارہ پیشکش کی گئی ہے، بھارت کو مراسلہ بھجوا دیا گیا ہے، بھارت کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کشمیر سے متعلق موقف نہیں بدلا، سیاسی نقشہ وقت کی ضرورت تھی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس سے قبل بھارت کو کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی ایک سے زائد مرتبہ پیشکش کر چکا ہے مگر بھارت ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، کلبھوشن یادیو بھی سزائے موت کے فیصلے کیخلاف اپیل کرنے سے انکار کر چکا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 اگست کو حکم دیا تھا کہ بھارتی ہچکچاہٹ ور کلبھوشن یادیو کے انکار کے باوجود انہیں وکیل مقرر کرنے کا ایک اور موقع دیا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ میں مزید بتایا کہ پوری دنیا میں کل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کے خلاف آوازیں اٹھائی گئیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یکطرفہ اقدام کو یکسر مسترد کیا گیا، ہیومن رائٹس واچ نے بھی بھارتی غیرقانونی اقدامات سے متعلق بیان دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ 4 اگست کو پاکستان نے سیاسی نقشہ جاری کیا، پاکستان کے سیاسی نقشہ کے اجراء پر اراکین پارلیمان کو پہلے اعتماد میں لیا گیا، سیاسی نقشہ جاری کرنا وقت کی ضرورت تھی جب کہ پاکستان کے سیاسی نقشہ میں جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانا تضاد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاسی نقشے نے گزشتہ برس جاری ہونے والے بھارتی نقشے کی نفی کی جب کہ پاکستان اپنے سیاسی نقشے کے اجراء پر بھارت کے بیان کو مسترد کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے پاکستان نے کشمیر پر او آئی سی کے ساتھ 3 اجلاس کیے، او آئی سی نے کشمیر پر مضبوط بیانات دیے تاہم ہم چاہیتے ہیں کہ او آئی سی اپنا قائدانہ کردار ادا کرے جب کہ سعودی عرب سے ہمارے قریبی برادرانہ تعلقات موجود ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو معاملے پر بھارت کو ایک اور موقع دینے کے لیے سفارتی رابطہ کرلیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن یادیو کا وکیل مقرر کرنے کے لیے رابطے کا حکم دیا تھا لہذا عدالتی حکم کے مطابق بھارت سے رابطہ کیا اور جواب کا انتظار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام بیروت دھماکے میں انسانی جانوں کے نقصان پر تعزیت کرتی ہے، بیروت دھماکوں میں ایک پاکستانی خاندان بری طرح متاثر ہوا، یہ خاندان بری طرح زخمی ہوا اور ایک ٹین ایج بچہ شہید ہو گیا، اس خاندان کے والد اور ایک ہمشیرہ اسپتال میں تشویش ناک حالت میں ہیں جب کہ لبنان میں ایک اور پاکستانی خاندان بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
