پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے پر 47 برطانوی اراکینِ پارلیمان کا بورس جانسن کو خط

برطانیہ کے 47 اراکین پارلیمنٹ نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو کورونا وائرس کے سبب سفری پابندیوں کی فہرست ‘ریڈ لسٹ’ میں شامل کرنے پر وزیراعظم بورس جانسن کو خط لکھ دیا۔
آل پارٹیز پارلیمینٹری گروپ آن پاکستان (اے پی پی جی) کی سربراہ یاسمین قریشی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں برطانوی وزیراعظم کو ارسال کردہ خط شیئر کیا۔ خط میں 46 اراکین کی دستخط موجود ہیں تاہم ایک دوسری ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ زارا سلطانہ بھی دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے برطانوی سیکریٹری اسٹیٹ برائے خارجہ، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کو 30 مارچ کو لکھے ایک خط میں سوال اٹھایا تھا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کس سائنسی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا۔ برطانوی حکومت نے پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا اور فلپائن کو ریڈ لسٹ میں شامل کرتے ہوئے 9 اپریل سے ان ممالک سے برطانوی یا آئرش شہریوں کے سوا دیگر مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کردی تھی۔ چنانچہ اب اراکین پارلیمان کی جانب سے پاکستان اور بنگلہ دیش کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو خط لکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں یاسمین قریشی کا کہنا تھا کہ ریڈ لسٹ میں پاکستان کی حیثیت کے حوالے سے بہت بحث ہورہی ہے اور بذاتِ خود مجھے اس معاملے پر متعدد سوالات موصول ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اور دیگر پارلیمانی ساتھی اس حوالے سے انتہائی فکر مند ہیں۔ خط میں اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ان ممالک کے ریڈ لسٹ میں شامل ہونے سے متعدد برطانوی رہائشیوں پر گہرے اثرات ہوں گے۔ خط کے مطابق برطانیہ میں 11 لاکھ پاکستانی نژاد برطانوی اور بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی نژاد برطانوی مقیم ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ جہاں ہم ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو برطانیہ کی کووِڈ 19 سےحفاظت کےلیے ضروری ہیں، اس فیصلے کے واضح ثبوت فراہم کیے بغیر اس منصوبے کو جس طرح نافذ کیا گیا ہے اس حوالے سے ہمیں بہت خدشات ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ متعدد برطانوی شہریوں نے حکومت کی رہنما ہدایات کے مطابق ان ممالک کا سفر کیا، انہوں نے اپنی ریٹرن فلائٹ کےلیے بھی ادائیگی کردی تھی لیکن اب اس صورتحال میں انہیں پابندی لگنے سے قبل واپسی کےلیے دوبارہ ادائی کرنی ہوگی۔ اراکین پارلیمان نے کہا کہ اس وقت پروازوں کےلیے ایک ٹکٹ کی لاگت تقریباً 2 ہزار پاؤنڈز ہے جبکہ سفر کرنے والے زیادہ تر افراد کو ریٹرن فلائٹ کےلیے 500 پاؤنڈ ادا کرنے تھے جو اب بے کار ہوگئے۔ خط میں کہا گیا کہ ان ممالک میں موجود برطانوی رہائشیوں میں زیادہ تر امیر یا نسبتاً خوشحال لوگ نہیں بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اس فیصلے کے باعث ہمارے حلقوں کے پھنس جانے والے رہائشیوں کی مدد کےلیے ہر چیز کرنی چاہیے، وہ ایسی صورت حال میں ہیں کہ یا تو بیرونِ ملک پھنسے رہیں یا واپس گھر آنے کےلیے قرض لیں۔ خط میں حکومت سے کہا گیا کہ ان پھنسے ہوئے افراد کی واپسی کےلیے چارٹر پروازوں پر غور کیا جائے یا انہیں مالی مدد فراہم کی جائے، اگر یہ نہیں ہوسکتا تو پابندی کے نفاذ کی تاریخ میں توسیع کے اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی اراکین پارلیمان نے ان ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کےلیے اعداد وشمار اور سائنسی وجوہات کی عدم دستیابی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے مقابلے فی لاکھ زیادہ مثبت کیسز والے دیگر بہت سے ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا جب کہ پاکستان میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی شرح برطانیہ سے بھی کم ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہ اگر وہ مکمل اعداد و شمار فراہم کردیے جائیں کہ جو یہ ظاہر کریں کہ ان ممالک کو ریڈ لسٹ میں کیوں شامل کیا گیا تو بہت مہربانی ہوگی جبکہ فیصلہ سازی کے عمل پر بھی فوری وضاحت کی جائے۔
خیال رہے کہ 2 اپریل کو پاکستان میں برطانوی ہائی کشمنر نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا تھا کہ برطانوی حکومت نے کووڈ-19 کیسز پر متعلق نظرثانی کے بعد پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ریڈ لسٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ صرف انگلینڈ اور آئرلینڈ کے شہریوں اور برطانیہ میں رہائش کے حقوق رکھنے والے افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت ہوگی۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا تھا کہ اگر وہ برطانیہ آمد سے 10 روز قبل پاکستان میں مقیم رہے ہوں گے تو مسافروں کو لازمی طور پر 10 روز تک ہوٹل میں قرنطینہ کرنا ہوگا اور اس قیام کی ادائی بھی خود کرنی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button