پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی امریکی کوشش تیز


امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان پر افغان طالبان کی حمایت اور کابل انتظامیہ کی طرف سے اسلام آباد پر طالبان کی سرپرستی کے الزامات میں شدت آنے کے بعد اب اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ امریکہ اور اس کی طفیلی افغان حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اسے قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان پر افغان طالبان کی پشت پناہی کے الزامات کی آڑ میں اسلام آباد پر عالمی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایسے الزامات کے بعد خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔ پاکستان میں کئی حلقے وزیر خارجہ کے اس بیان سے متفق نظر آتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شیعب کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی ناکامی چھپانے کے لئے پاکستان کوبدنام کر رہا ہے اور اسلام آباد کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے دو ٹریلین ڈالرز خرچ کر کے امریکہ کو کیا فائدہ ہوا اور واشنگٹن وہاں سے جلد بازی میں کسی سیاسی تصفیے کے بغیر کیوں نکلا، جس وجہ سے وہاں حالات خراب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان خراب ہوتے حالات کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر ڈال رہے ہیں جو کہ ذیادتی ہے۔
جنرل امجد کے بقول افغان صدر اشرف غنی نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے امن مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور ایک غیر جانب دار حکومت نہیں بننے دی اور اب کابل اور واشنگٹن یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ پاکستان میں طالبان کی خفیہ پناہ گاہیں ہیں۔
جنرل ریٹائرڈ امجد شیعب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے متعدد مرتبہ امریکہ کو کہا کہ یہ تین ملین سے زیادہ جو افغان مہاجرین ہیں ان کو واپس بلایا جائے، ” کیونکہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم نے طالبان کو خفیہ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔ لیکن 30 لاکھ مہاجرین میں سے اگر کوئی وہاں جاتا ہے اور وہاں جاکے لڑائی میں حصہ لیتا ہے تو ہم اسے کیسے پکڑ سکتے ہیں۔ ہم کیسے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان میں سے کون مہاجر ہے اور کون جنگجو ہے۔ اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ ایسی کوئی خفیہ پناہ گاہیں تو امریکہ نے بیس سال میں ان کو ختم کیوں نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان پر پابندی لگائی گئی تو پاکستان مکمل طور پر چینی کیمپ میں ہوگا۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر حسین شہید سہروردی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اہنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے اور وہ یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ طالبان بزور طاقت کابل پر قبضہ کر لیں کیونکہ اس سے مہاجرین کا بہت بڑا بہاؤ پاکستان کی طرف ہو جائے گا اور افغان طالبان کی کامیابی کے نتیجے میں پاکستان میں مذہبی جماعتیں مزید انتہا پسندی کی طرف جائیں گی اور طالبان بھی واپس آ جائیں گے۔‘‘ ڈاکٹر سہروردی کے مطابق طالبان کی 60 فیصد قیادت دوحہ میں بیٹھی ہوئی ہے، جو خود امریکہ نے وہاں بٹھائی ہے۔ بقیہ طالبان رہنماؤں کی موجودگی ایران اور دوسرے ممالک میں بھی ہے جبکہ پاکستان میں بمشکل دس فیصد قیادت ہے اور وہ بھی غیر فعال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بھی بالکل غلط ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کی خفیہ پناہ گاہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ افغان فوجی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال رہے ہیں، اب اگر افغان پشتون سپاہی کسی غیر پشتون افغان فوجی آفیسر کو سلوٹ نہیں مارتا تو کیا یہ بھی پاکستان کی سازش ہے۔ ڈاکٹر سہروردی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الزامات سے پاکستان اور مغرب کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونگے۔
اس معاملے پر نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر محمد اکرم بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معید یوسف نے یہ بیان دیا ہے کہ پاکستان کابل پر طالبان کے قبضے کو برداشت نہیں کرے گا لیکن طالبان تو مسلسل صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے جنگ میں شدت آ رہی ہے اور اس کا پاکستان کو بہت بھاری نقصان ہو گیا۔ لہذا پاکستان کو فوری طور پر جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس پر بین الاقوامی پابندیاں لگ سکتی ہیں جس سے معیشت کا جنازہ نکل جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا یہ نہیں مانے گی کہ پاکستان کا طالبان پر کوئی اثر رسوخ نہیں ہے یا اسلام آباد کے طالبان رہنماؤں سے تعلقات نہیں ہے۔ "پاکستان اور افغان طالبان کے تاریخی تعلقات ہیں اور خود انہوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے طالبان کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ مذاکرات میں شرکت کریں تو آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان سے تعلقات نہیں ہے۔ آنے والے ہفتوں میں پاکستان پر مزید دباؤ بڑھے گا۔‘‘

Back to top button