پاکستان کے مخالف پراپیگنڈہ کرنے والا بھارتی نیٹ ورک بے نقاب

یورپی یونین نے سری واستوا گروپ اور انڈین کرونیکلز کے گٹھ جوڑ پر مشتمل ایک ایسے انڈین نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے جو پچھلے15 سال سے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو جھانسا دے کر من گھڑت خبروں کے ذریعے پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کرکے عالمی سطح پر بدنام کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔
یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کے مطابق ایک مردہ پروفیسر، کئی غیر فعال تنظیمیں اور 750 جعلی میڈیا آگنائزیشنز کو 15 سال سے جاری وسیع عالمی ڈس انفارمیشن منصوبے سے پاکستان کو بدنام کرنے اور انڈین مفادات کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔انڈین کرونیکلز کے نام سے بدھ 9 دسمبر کو جاری ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق اس منصوبے کے تحت جس شخص،پروفیسر لوئیس بی سوہن کی شناخت کو چرا کر دوبارہ زندہ دکھایا گیا ہے اسے درحقیقت انسانی حقوق کے قوانین کے بانیوں میں سے شمار کیا جاتا ہے لیکن وہ 2006 میں 92 سال کی عمر میں وفات پاچکا ہے۔ ای یو ڈس انفو لیب کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ایلیگزینڈر الافیلیپ کے مطابق اس سے قبل انھوں نے ڈس انفارمیشن پھیلانے کی غرض سے مختلف سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کسی نیٹ ورک میں اتنی ہم آہنگی نہیں دیکھی اور اس نوعیت کا اتنا بڑا نیٹ ورک بھی اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ سال اس نیٹ ورک کے بارے میں تحقیق سامنے لانے کے باوجود اس نے اپنے کام کو جاری رکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتنا مضبوط اور بااثر نیٹ ورک ہے۔
بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز سے کام کرنے والے ادارے ای یو ڈس انفو لیب نے گذشتہ سال بھی اسی نوعیت کے انکشافات کیے تھے لیکن تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سری واستوا گروپ سے چلائے جانے والے پاکستان مخالف اس نیٹ ورک کی پہنچ کم از کم 116 ممالک اور نو مختلف خطوں تک ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ نیٹ ورک جنیوا میں پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق اور برسلز میں یورپی پارلیمان پر اثر انداز ہونے کے کوشش کرتا ہے۔اس سلسلے میں یہ نیٹ ورک مشکوک یا جعلی این جی اوز، سات سو سے زائد جعلی میڈیا ادارے ، فرضی شناخت اختیار کر کے یا دوسروں کی شناخت چرا کر، یا ایک کیس میں تو انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک انتہائی معتبر شخصیت کو زندہ کر کے اپنے مقاصد پورے کرنے پر کام کرتا ہے۔اس کے علاوہ اس نیٹ ورک کی حکمت عملی کا بڑا اہم جزو ہے کہ میڈیا کے جعلی اداروں پر شائع ہونے والی خبروں کو انڈیا کی سب سے بڑی نیوز وائر ایجنسی ایشین نیوز انٹرنیشنل یا اے این آئی کے ذریعے معتبر ظاہر کرے اور مزید آگے پھیلائے۔ ای یو ڈس انفو لیب کے مطابق اس تحقیق کی سب سے اہم بات اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ دس این جی اوز کا سری واستوا گروپ سے براہ راست تعلق ثابت کر دینا تھی۔اس کے علاوہ ساڑھے پانچ سو سے زیادہ نیوز ویب سائٹس، متعدد مشکوک این جی اوز اور کئی غیر فعال ادارے اور تھنک ٹینکس کا بھی سری واستوا گروپ سے براہ راست تعلق اس تحقیق میں ثابت کیا گیا جو کہ بین الاقوامی سطح پر انڈین مفادات کو پھیلاتی اور پاکستان کے خلاف مذموم مقاصد کے حصول کے لئے انتہائی زہریلا پراپیگنڈا کرتی تھیں۔
تحقیق کے مطابق سری واستوا گروپ کے اس آپریشن کا آغاز سنہ 2005 کے آخر میں ہوا جو کہ یو این ایچ آر سی کے قیام سے چند ماہ قبل تھا۔محققین کو کمیشن ٹو سٹڈی آرگنائزیشن آف پیس نامی این جی او کا نام بالخصوص کھٹکا جس کا قیام 1930 میں ہوا تھا اور وہ 1975 سے غیر فعال تھی۔اچنبھے کی بات یہ تھی کہ تحقیق میں نظر آیا کہ اس ادارے کے ایک سابق چئیرمین، پروفیسر لوئیس بی سوہن کا نام 2007 میں یو این ایچ آر سی کے ایک سیشن میں شرکت کرنے والوں کی فہرست میں شامل تھا، لیکن پروفیسر سوہن کا 2006 میں انتقال ہو چکا تھا۔اسی طرح 2011 میں واشنگٹن میں منعقد کی گئی ایک تقریب میں بھی ان کا نام بطور مہمان شامل تھا اور وہ تقریب بھی سری واستوا گروپ سے منسلک ایک ادارے نے ہی منعقد کرائی تھی۔تحقیق میں اس بات کی مسلسل نشاندہی کی گئی کہ کئی ادارے اور این جی اوز، چند جو اقوام متحدہ سے منظور شدہ ہیں اور بہت سے وہ جو منظور شدہ نہیں ہیں، اور ان کا بظاہر جنوبی ایشیا اور سیاست یا انسانی حقوق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن وہ متعدد بار اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور تحقیق کے مطابق ان میں ادارے میں سے واضح اکثریت سری واستوا گروپ سے منسلک ہے۔پھر گذشتہ سال مارچ میں ہونے والے ایک سیشن کے دوران یو این سے تسلیم شدہ اور سری واستوا گروپ سے منسلک ایک این جی او گروپ نے اپنے مقررہ وقت پر تقریر کرنے کے لیے یوانا باراکووا نامی پاکستان مخلاف تجزیہ کار کو جگہ دی جن کا تعلق یورپین فاؤنڈیشن فار ساؤتھ ایشیا سے تھا جو کہ اقوام متحدہ سے منظور شدہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ سنہ 2015 میں حکومت پاکستان کی شکایت پر اقوام متحدہ نے افریقہ سے تعلق رکھنے والی ایسی دو این جی اوز کی منظور شدہ حیثیت ختم کر دی تھی کیونکہ انھوں نے اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کے خلاف متنازع بیانات دیے تھے۔
تحقیقت میں یہ بات سامنے آئی کہ اے این آئی کے ذریعے ای یو کرونیکلز پر چلنے والی پاکستان مخالف خبروں اور مضامین کو شائع کر کے انڈیا میں دیگر میڈیا کے اداروں تک پہنچایا جا رہا ہے اور ان خبروں کو ہلکا سا رد و بدل کر کے ان کو مزید سخت بنایا گیا۔ایلیگزانڈر الافیلیپ کہتے ہیں کہ اے این آئی کا کردار اس لیے انتہائی ضروری تھا کہ اس کی مدد سے ‘انفلوئنس آپریشن’ پر سے شک کم کیا گیا اور اے این آئی پر چلنے والی خبروں کے مصدقہ ہونے پر شکوک نہیں اٹھے۔اے این آئی نے ہر وہ پریس ریلیز ، ویڈیو اور خبر چلائی جو پاکستان کو نشانہ بناتی اور ان پر شائع ہونے والا یہ مواد بغیر کسی سوال کے بڑے پیمانے پر انڈین میڈیا کی زینت بنتا چلا گیا، چاہے وہ ری پبلک ٹی وی ہو یا بزنس سٹینڈرڈ اخبار۔ اسی طرح گذشتہ سال جنیوا میں سری واستوا گروپ سے منسلک تنظیموں نے پاکستان مخالف مظاہرے کیے جس کے بارے میں سری واستوا گروپ سے منسلک فیک میڈیا اداروں خبریں چلائیں اور وہی خبریں اور ویڈیوز اے این آئی کے ذریعے مزید آگے تک پہنچائی گئیں۔اس تحقیق میں پتہ چلتا ہے کہ جنیوا میں سری واستوا گروپ سے منسلک اداروں کی حکمت عملی ہے کہ یو این ایچ سی آر کے دفتر کے باہر مظاہرے کریں، پریس کانفرنس کریں اور مختلف تقریبات میں شرکت کر کے اپنے بیانیے کو پیش کریں۔
اس حوالے سے یورپی پارلیمان میں گرین پارٹی کی نمائندگی کرنے والے ڈینئیل فرئیونڈ کہتے ہیں کہ یورپی یونین اس قسم کے آپریشن کے سامنے غیر محفوظ ہے۔ ای یو کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ خود مختار باڈی بنائی جائے۔ ای یو کے اپنے ادارے اس سلسلے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ یورپی پارلیمان سے منسلک ذرائع نے بھی موجودہ حفاظتی نظام پر سوال اٹھایا اور انھیں ‘محض ایک مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور پارلیمان کی ساری توجہ روس اور چین پر ہوتی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ سے باہر دیگر ممالک سے چلائے جانے والے اس نوعیت کے آپریشنز پر غور کیا جائے۔
انڈین کرونیکلز کے محققین کہتے ہیں کہ یہ تحقیق فیصلہ لینے والوں کے لیے آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے، تاکہ ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے جو بین الاقوامی طور پر ایسے کام کرنے والوں کو عالمی فورمز کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکے۔یہ بہت ممکن ہے کہ وہ ادارے جہاں انڈین کرونیکلز کی پہنچ تھی، ان کی جانب سے کوئی آواز نہ اٹھانے سے اس نیٹ ورک کو شہ ملی اور وقت ملا کہ وہ خود کو زیادہ موثر بنائیں اور ایسا کام کرتے رہیں۔ای یو ڈس انفو لیب کے ایلیگزانڈر الافیلیپ نے اس نیٹ ورک کے خلاف اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اقدامات کی روشنی میں کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔ ہمارے اداروں کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوگی کہ اگر اگلے سال ہم اسی طرح کی ایک اور رپورٹ شائع کریں جو اسی نیٹ ورک اور اس میں ملوث افراد پر ہو۔ اس کا صرف یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ یورپی اداروں کو بیرونی مداخلت سے کوئی شکایت نہیں ہے۔
