پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کا خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہو کر سات ارب ڈالرز سے بھی کم رہ گئے ہیں جس کے بعد معاشی ماہرین خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے بیرونی ادائیگیاں کرنا چیلنج بن سکتا ہے اور ملک ڈیفالٹ کی جانب جا سکتا ہے۔ معاشی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی رواں سال اور پھر اگلے سالوں میں قرض اور سود کی رقم کے علاوہ دیگر بین الاقوامی ادائیگیاں کہیں زیادہ ہیں لہذا اگر اسے سعودی عرب اور دیگر ممالک سے مدد نہ ملی تو ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

 

معاشی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی خزانے میں موجود 6 ارب 71 کروڑ ڈالرز میں سے 3 ارب ڈالرز سعودی عرب اور 2 ارب ڈالرز چینی حکومت کے ہیں جنکو کمرشل مقاصد یعنی قرض ادا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جبکہ پاکستان کے ذمے واجب الادا قرضے 71 ارب ڈالرز کے ہیں۔ ماہرین کے بقول ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کے باعث نوبت یہ آچکی ہے کہ دوست ممالک سے پاکستان قرضے بھی ری شیڈول کرانے میں کامیاب نہیں ہو پارہا ہے کیوں کہ یہ ممالک دیکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں آخر سیاسی عدم استحکام کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

 

پاکستان کے مرکزی بینک نے ہفتہ وار رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے میں 784ملین ڈالر کم ہوئے ہیں جس کی وجہ پاکستان انٹرنیشنل سکوک اور کچھ دیگر بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بتائی جا رہی ہے۔اس دوران کچھ رقم کی ادائیگی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے ملنے والے 500 ملین امریکی ڈالر کے نئے قرض سے  ممکن ہو سکی لیکن اب بینک کے پاس صرف 6.7 ارب امریکی ڈالرز کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر باقی بچے ہیں جو چار سال میں مرکزی بینک کے کم ترین ذخائر بتائے جاتے ہیں۔ یوں ایک ہفتے میں ان ذخائر میں ساڑھے دس فی صد کی کمی واقع ہوئی۔ رواں سال کے اب تک کے 11 ماہ میں مجموعی طور پر ان ذخائر میں 10 ارب ڈالرز سے زائد کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں یہ ذخائر 17 ارب ڈالرز سے بھی زائد کے بتائے جاتے تھے۔

 

عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد بننے والی شہباز حکومت کے دور میں اب تک غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 4 ارب ڈالرز سے زائد کی کمی آچکی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی یہ ذخائر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر نہیں لیکن ان میں مسلسل کمی اس لیے خطرناک ہے کیوں کہ پاکستان کی رواں سال اور پھر آنے والے سالوں میں قرض، سود کی رقم اور دیگر بین الاقوامی ادائیگیاں اس سے کہیں زیادہ ہیں اور ملکی خزانے میں فی الحال ڈالرز کی آمد انتہائی کم اور اخراج کافی زیادہ نظر آ رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم ہوتے ہوئے زرِمبادلہ کے ذخائراس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ قومی معیشت تیزی سے اس جانب بڑھ رہی ہے جہاں خدانخواستہ ملک ڈیفالٹ کا شکار نہ ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کا ڈھانچہ ہی کچھ یوں ہے کہ اس کا زیادہ تر یعنی 80 فی صد انحصار درآمدشدہ تیار مصنوعات یا خام مال پر ہے اور درآمدات کے لیے ہمیں غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر درکار ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہماری آمدنی کے ذرائع محدود اور قرضوں کا بوجھ بے تحاشا ہے۔ کُل ملا کر بھی اس سال ہمارے غیر ملکی زرِمبادلہ کا تخمینہ 60 ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے جس میں برآمدات 30 ارب ڈالرز اور 30 ارب ڈالرز ہی کے لگ بھگ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے آنے والی رقوم شامل ہیں۔

 

لیکن دوسری جانب اخراجات میں دیکھا جائے تو گزشتہ سال ہم نے 80 ارب ڈالرز کے لگ بھگ کی درآمدات کی تھیں اور قرضوں کی ادائیگی اس کے علاوہ تھی۔ یوں پاکستان کے جاری کھاتوں کا خسارہ گزشتہ مالی سال میں 17.4 ارب ڈالر کا رہا تھا۔ اگرچہ اس بار حکومت نے اسے کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی تو اپنا رکھی ہے لیکن اس کی وجہ سے پیداوار رُک رہی ہے اور معیشت سست روی کا شکار ہے۔ اس طرح ہماری قومی معاشی ترقی یا جی ڈی پی کی شرح 2 فی صد یا اس سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔ جب معاشی ترقی کی رفتار دھیمی ہو گی تو اسکا مطلب ہے کہ روزگار کے مواقع کم پیدا ہورہے ہیں اور ملک کی فی کس آمدنی منجمد رہے گی۔

 

دوسری جانب قرضوں، سُود اور دیگر ادائیگیوں کے باعث ہمارے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم سطح پر ہیں جس سے یہ خدشات تقویت پارہے ہیں کہ کیا پاکستان اپنے ذمے واجب الادا قرضے بروقت ادا کرپائے گا یا نہیں؟ پاکستان کو 73 ارب امریکی ڈالرز کے غیر ملکی قرضے واپس کرنا ہیں۔ اس وقت ملک کے پاس زرِمبادلہ کے ذخائر صرف چھ ارب 71 کروڑ ڈالرز کے ہیں اور آئی ایم ایف سمیت سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سمیت کسی ملک سے حکومتی دعوئوں کے برعکس اب تک کوئی رقم نہیں مل پائی ہے۔ زرِمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم سطح پر آ جانے کے بعد شہباز حکومت نے سعودی عرب کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ اسے فوری طور پر مزید تین ارب ڈالرز نقد فراہم کیے جائیں۔پاکستان کے قومی خزانے میں سعودی عرب کےسعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کی جانب سے تین ارب ڈالرز کے ڈیپازٹس پہلے سے موجود ہیں اور مزید تین ارب ڈالرز کی درخواست وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کے دوران کی ہے۔

Back to top button