ایران پر حملوں کے بعد پاکستان میں تیزابی بارش کا خطرہ

آئندہ چند روز میں طویل خشک سالی کے بعد پاکستان کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی نے جہاں عوام کے چہروں پر خوشی بکھیر دی ہے، وہیں دوسری جانب ایران کے پٹرولیم ذخائر پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد خطے میں فضائی آلودگی اور پاکستان میں تیزابی بارش کے ممکنہ خدشات نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایران میں جاری جنگی صورتحال کے باعث مغرب سے آنے والی ہواؤں کے ساتھ آلودہ ذرات پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خصوصاً پاکستان کے مغربی علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ہوا کا معیار انتہائی خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں شہری جلد اور سانس سے متعلق مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین روز کے دوران ملک کے بالائی حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ پیر کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ پیر کی شام سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا جو 12 مارچ تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس موسمی نظام کے زیر اثر نو سے 12 مارچ کے دوران چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، ملاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف اضلاع میں مطلع ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ درمیانی درجے کی بارش جبکہ چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ نو سے 11 مارچ کے دوران اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، مری، گلیات اور گرد و نواح میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ اس دوران چند مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔ بارشوں کے اس سلسلے کے نتیجے میں بالائی علاقوں میں دن کے وقت درجہ حرارت میں تین سے چار ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی متوقع ہے۔ تاہم بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں جہاں طویل خشک سالی کے بعد ہونے والی بارشوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، وہیں محکمہ موسمیات نے اپنی ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ ایران میں حالیہ حملوں کے باعث پیدا ہونے والی فضائی آلودگی مغربی ہواؤں کے ذریعے پاکستان تک پہنچ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب اسرائیل نے ایران میں تیل کے متعدد ڈپو اور ریفائنریوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد تہران کے کئی علاقوں پر گہرا دھواں چھا گیا تھا۔ ایرانی حکام اور ماحولیاتی اداروں کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں فضا میں خطرناک اور زہریلے مادے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق جب تیل یا پٹرول جلتا ہے تو اس سے سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ یہ گیسیں جب فضا میں موجود پانی کے بخارات کے ساتھ ملتی ہیں تو سلفیورک اور نائٹرک ایسڈ میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جو بعد ازاں تیزابی بارش کا سبب بنتی ہیں۔ ایسی بارش انسانی صحت، فصلوں، جانوروں اور درختوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جب پانی سے ملتی ہیں تو ایسڈ یعنی تیزاب میں تبدیل ہو جاتی ہیں، ان دونوں کیمیکلز کے ملاپ سے پیداہونے والا سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ انسانوں، جانوروں اور درختوں سمیت ہر جاندار چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے جبکہ تیزابی بارش ماحول اور انسانوں کے لیے طویل المدتی خطرات بھی پیدا کرسکتی ہے۔
پاکستان کیلئیے ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی کیوں؟
ماہرین کے بقول ایران میں بڑے پیمانے پر تیل جلنے سے فضاء میں سیاہ دھوئیں اور آلودگی کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ موسمی نقشوں کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر ہوائیں سمندر کی جانب سے سندھ اور بلوچستان میں داخل ہو کر شمال کی طرف بڑھ رہی ہیں، اس لیے ایران سے آنے والی آلودگی کے براہ راست پاکستان تک پہنچنے کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد عرفان ورک کا کہنا ہے کہ ایران میں پیدا ہونے والی آلودگی کے اثرات مکمل طور پر پاکستان تک پہنچنے کا امکان کم ہے کیونکہ تہران میں ہونے والی بمباری کے بعد اس طرف سے ہوائیں پاکستان کی طرف نہیں آ رہی ہیں۔ تاہم مستقبل میں ہواؤں کا رخ تبدیل ہونے پر مغربی علاقوں میں فضائی آلودگی میں کچھ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اب تک چترال اور دیر میں ہونے والی بارشیں معمول کے مطابق رہی ہیں اور کسی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع نہیں ملی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ فضائی آلودگی اور موسمی نظام میں تبدیلیاں خطے کے ماحول اور انسانی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
