پاکستان کے سٹریٹیجک اثاثے آخر ہمارے دشمن کیوں بن گئے؟

 

 

 

پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آج جو افغانی اور پاکستانی طالبان آپس میں گٹھ جوڑ کر کے پاکستان پر حملہ آور ہیں، انہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ دہائیوں سے اپنا سٹریٹیجک اثاثہ قرار دے کر پال پوس رہی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ نے افغانی اور کشمیری جہادی تنظیموں کی سرپرستی کے علاوہ مذہبی بیانیے کو بھی ریاستی مقاصد کے فروغ کیلئے استعمال کیا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے پاکستان کو سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر ہمہ جہت حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق ریاست نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا جواب افغانستان ہر جوابی حملوں سے دینے کی جو پالیسی اپنائی ہے اسکے ذریعے کابل میں طالبان حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے تا کہ وہ اپنی سرزمین تحریک طالبان، داعش خراسان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب افغان حکومت کی سرپرستی میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے رد عمل میں ہمارے فیصلہ سازوں کی جانب سے بیان بازی کافی نہیں ہو گی بلکہ جارحانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف سرحد پار موجود دہشت گرد ٹھکانے نہیں بلکہ ملک کے اندر وہ نظریاتی اور تنظیمی بنیادیں بھی ہیں جو کی طالبان طرز فکر سے ہم آہنگ عناصر کو جواز اور حوصلہ فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ براہِ راست معاونت کے علاوہ طالبان طرزِ حکمرانی کی مثالی تصویر کشی اور پاکستان میں اسی ماڈل کے نفاذ کی وکالت بھی شدت پسندی کے لیے فکری ایندھن کا کام کرتی ہے، جس کا تدارک ریاستی اداروں کی ترجیح ہونا چاہیے۔

 

تجزیہ کار حالیہ پاک افغان جنگ کو ایک ایسی ڈویلپمینٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس نے پاکستان کو ’ادارہ جاتی انتہا پسندی‘ کی طرف بڑھنے سے روک دیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ اس کشیدگی کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا اور سرحدی علاقوں میں بے چینی بڑھی، تاہم اس نے افغان طالبان حکومت کی اس خوش فہمی کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان رد عمل میں آخری حد تک نہیں جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ماضی میں مذہبی بیانیے کو ریاستی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس بیانیے کو قومی یکجہتی پیدا کرنے، جغرافیائی سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور بعض اوقات پراکسی قوتوں کی تیاری کے لیے بروئے کار لایا گیا۔ ریاست نے عوام کو مذہبی شناخت کے ذریعے ریاست سے وابستگی کا احساس تو دیا، مگر انہیں مکمل شہری حقوق اور جمہوری شراکت کا وہ دائرہ فراہم نہ کیا جا سکا جو پائیدار قومی ہم آہنگی کے لیے ضروری تھا۔

 

مذہبی بیانیے کے ذریعے سیاسی و قومی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ ریاست کی جانب سے مدارس اور مذہبی گروہوں کو فروغ دینے کی پالیسی نے ریاست پاکستسن اور معاشرے دونوں کو کمزور کیا۔ چنانچہ آج بھی قومی یکجہتی کا سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں بلوچستان میں شورش، گوادر سے آزاد کشمیر تک حقوق کی تحریکیں، اور بڑھتا ہوا نسلی ذیلی قومیت کا رجحان ظاہر کرتے ہیں کہ مذہبی بیانیہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہا۔

 

تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ پچھلی دہائیوں میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے خلیجی طرز کا مرکزیت پسند طرز حکمرانی اپنانے کو ترجیح دی اور خود کو خطے میں سکیورٹی فراہم کرنے والی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس حکمت عملی میں مذہبی گروہوں کو بطور آلہ استعمال کیا گیا، جس کے نتائج پر خاطر خواہ غور نہیں کیا گیا۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اسے ایک بڑی تزویراتی کامیابی سمجھا۔ اسے ایک سپر پاور کے انخلا اور خطے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا۔

 

تاہم وہ بھول گئے کہ اس خوشی میں دو بڑے خطرات پوشیدہ تھے جنہیں بروقت نہیں سمجھا گیا۔ پہلا خطرہ یہ تھا کہ اگر پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پالیسی نہ بدلی ہوتی تو طالبان کا نظریاتی اثر خود ملک کے اندر تیزی سے پھیل سکتا تھا، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات میں جو آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشرہ دو واضح نظریاتی کیمپوں میں تقسیم ہو سکتا تھا، ایک طرف طالبان طرزِ حکمرانی کے حامی اور دوسری جانب قومیتی یا مزاحمتی تحریکوں کی طرف مائل طبقات جو سیاسی اور سماجی کشیدگی کو مزید گہرا کر دیتے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق دوسرا خطرہ پاکستان کی سفارتی اور جغرافیائی سیاسی تنہائی کا تھا۔ عالمی برادری پہلے ہی شدت پسند گروہوں کے حوالے سے حساس ہے اور ایسے ماحول میں کسی بھی قسم کی نظریاتی قربت پاکستان کی معاشی بحالی اور علاقائی روابط کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔ کمزور معیشت کے تناظر میں یہ صورتحال انتہائی تباہ کن ہوتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کی سخت گیری اور بعض معاملات میں قلیل مدتی سوچ نے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا۔

 

حالیہ دنوں میں افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نظریاتی ہم آہنگی خود بخود سکیورٹی ضمانت میں تبدیل نہیں ہوتی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کو استعمال کرنے یا پراکسی حکمت عملی کی طرف دوبارہ جانے سے گریز کرے تو یہ ایک وسیع تر پالیسی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ انکے مطابق موجودہ عالمی ماحول میں پراکسی عناصر کی افادیت کم ہو چکی ہے اور علاقائی طاقتیں بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتیں۔ چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں جیسے شراکت دار کسی ایسے ایڈونچر کی حمایت نہیں کریں گے جو خطے کو طویل عدم استحکام کی طرف دھکیل دے۔

کیا خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی رجیم بھی بدل جائے گا؟

سیاسی تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے پاکستان کو تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنا ہوں گے۔ سیاسی دباؤ، سفارتی رابطے اور ضرورت پڑنے پر محدود عسکری اقدامات کے ذریعے طالبان حکومت کو یہ باور کرانا ہوگا کہ عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کے مطابق اندرونِ ملک بھی ریاستی اداروں کو اُن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری رکھنی چاہیے جو شدت پسند بیانیے کو زندہ رکھتے ہیں۔

 

Back to top button