پاک افغان تجارتی بندش سے KP حکومت کنگال کیوں ہونے لگی؟

اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی راستوں کی بندش کے نتیجے میں خیبرپختونخوا حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے اور اسکی وصولیوں میں 52 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے، جو صوبائی مالی نظم و نسق کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خیبر پختونخوا کو آئندہ مہینوں میں نہ صرف ریونیو خسارے بلکہ ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی، سماجی شعبے کے اخراجات میں کمی اور بیروزگاری میں اضافے جیسے مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی خلیج اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں پاک افغان تجارت سے ہونے والی وصولیوں کی مد میں صرف ساڑھے تین ارب روپے جمع ہو سکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران اسی عرصے میں یہ وصولیاں ساڑھے سات ارب روپے تھیں، یوں صوبے کو تقریباً چار ارب روپے سے زائد کے براہ راست نقصان کا سامنا ہے۔
سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی تجارت کی معطلی نے نہ صرف صوبائی ریونیو کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں، مزدوروں اور بارڈر مارکیٹس سے وابستہ ہزاروں خاندانوں تک پھیل چکے ہیں۔ اندازوں کے مطابق طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ کے راستوں سے روزانہ ہونے والی تجارتی سرگرمیوں میں بندش کے بعد 60 سے 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث روزگار کے مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں۔خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم کی جانب سے وفاقی وزیر تجارت جام کمال کو لکھے گئے ایک حالیہ خط کو تجزیہ کار صوبے کی جانب سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا اظہار قرار دے رہے ہیں۔ خط میں صوبائی اور وفاقی سٹیک ہولڈرز کا فوری اجلاس بلانے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ ریونیو کی مد میں نقصانات، برآمد کنندگان کی رکی ہوئی ادائیگیوں، اور کاروباری سرگرمیوں کے تعطل جیسے معاملات پر غور کیا جا سکے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے قائم کردہ ریونیو ریویو کمیٹی نے بھی اپنی ابتدائی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ سرحدی تجارت کی معطلی کے بعد بارڈر ریونیو کی وصولیوں میں غیر معمولی اور تشویشناک کمی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی افغانستان کو برآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خیبرپختونخوا کے سرحدی راستوں سے ہوتا ہے، جن میں طورخم اور غلام خان مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ مالی سال 2025 میں طورخم بارڈر واحد ایسا تجارتی گیٹ وے رہا جہاں محدود پیمانے پر سرگرمی برقرار رہی، جس کی بنیادی وجہ افغانستان کے بڑے صارف مراکز تک اس کی براہ راست رسائی بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب خرلاچی اور انگور اڈہ جیسے تجارتی راستوں کے ذریعے برآمدات میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جسے تجزیہ کار طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سرحد پار تجارت کے بدلتے ہوئے رجحانات سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان منڈی اب محدود راستوں تک سمٹتی جا رہی ہے جس سے خیبر پختونخوا کے کئی سرحدی اضلاع معاشی جمود کا شکار ہو گئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاشی بحران کے پس منظر میں وفاق اور خیبر پختوننخوا کے کشیدہ تعلقات بھی ایک اہم عنصر ہیں۔ ان کے مطابق علی امین گنڈاپور کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد جب سے سہیل آفریدی صوبے کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں، وفاقی حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہوا ہے۔ تجزیہ کار دعویٰ کرتے ہیں کہ سہیل آفریدی کی جانب سے مسلسل ریاست اور فوج مخالف بیانات اور طالبان مخالف مجوزہ فوجی آپریشن کی کھل کر مخالفت نے وفاق میں سخت تحفظات کو جنم دیا ہے۔ باخبر سیاسی حلقوں کے مطابق اسی تناظر میں یہ امکان کم دکھائی دیتا ہے کہ وفاقی حکومت محض خیبر پختونخوا کے معاشی نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک۔افغان سرحدی تجارت کی بحالی کا فیصلہ کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی پالیسی اب خالصتاً سکیورٹی خدشات کے گرد گھوم رہی ہے، جس میں معاشی پہلو ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
پاکستانی ریاست عمران خان کی یرغمال کیسے بن چکی ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی قیادت کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک افغانستان کی سرزمین کو دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے والی تنظیم یعنی تحریک طالبان کے خلاف کابل حکومت کی جانب سے مؤثر اور عملی کارروائی نہیں کی جاتی، اور ان کے دہشتگرد نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک پاک۔افغان سرحدی تجارت کی بحالی ممکن نہیں۔ عسکری قیادت اس معاملے کو براہ راست قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔
