پاک بھارت دوستی کے لیے UAE کیوں کوشاں یے؟

بین الاقوامی جریدے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات افغان امن عمل کے تناظر میں پاکستان اور بھارت کے مابین سرحدوں پر فائر بندی میں ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے امریکی ایما پر ایک خفیہ روڈ میپ پر کام کر رہا ہے جسکے نتیجے میں توقع ہے کہ مستبقل قریب میں پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اپنے اپنے سفیر بھی دوبارہ مقرر کردیں گے جس کا براہ راست فائدہ افغان عمل امن کو پہنچے گا۔
جریدے کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کی یہ حالیہ کوشش ماضی کے مقابلے میں اس لیے مختلف ہے کہ امریکا میں صدر بائیڈن کی حکومت افغانستان میں وسیع پیمانے پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے کیوں کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کے ساتھ افغانستان میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دونوں کے تعلقات میں بہتری ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی قیادت پاک بھارت پرامن تعلقات کے قیام کیلئے کوشاں ہے اور انھیں مختلف محاذوں پر کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی تھی کہ جلد پاکستان اور بھارت میں مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ تاہم یہ اور بات کہ پاکستان میں ناقدین اس عمل کو کشمیر کا سودا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں جس میں اب پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت دونوں اکٹھے ہیں اور ایک پیج پر ہیں۔
بین الاقوامی جریدے بلومبرگ کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینے پاکستانی اور بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر اچانک جنگ بندی کے مشترکہ اعلان نے سب کو حیران کردیا تھا جس کے چوبیس گھنٹے بعد امارات کے وزیر خارجہ نے دہلی کا دورہ کیا۔ رپورٹ میں ان رابطوں سے آگاہ سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں فائر بندی کے لیے متحدہ عرب امارات نے ایک ماہ سے درپردہ کوششیں شروع کردی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افواج کی جانب سے فائر بندی کا معاہدہ دونوں ممالک کے مابین دیرپا امن کے قیام کے روڈ میپ کا آغاز ہے۔ جریدے کے مطابق دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کے لیے اگلا مرحلہ سفیروں کی واپس بھیجنے کا اقدام ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے اور پاکستان نے یہ اعلان کیا تھا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال نہیں کرتا پاکستان اسجلکے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھے گا۔ لیکن اب سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں ایکدوسرے کے خلاف پائے جانے والے جذباتی ماحول میں سفیروں کو واپس بھیجنے سے بڑھ کر کسی کام یابی کی فی الحال توقع نہیں کی جاسکتی۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم مودی معاشی ترقی اور چین سے ملحقہ سرحد پر اپنی فوجی طاقت کو پوری طرح متوجہ کرنا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان اپنے مشکل معاشی حالات کے باعث امریکا سمیت دیگر عالمی قوتوں سے بہتر تعلقات کی تگ و دو کررہا ہے۔
جریدے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے ماضی کو دفنا کر بھارت کے ساتھ آگے بڑھنے کے بیان اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھارت کو معاملات بہتر کرنے کی پیش کش کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں امارات کے کردار کے کچھ اور اشارے ملتے ہیں۔ نومبر میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کی جس کے اگلے ہی ماہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود امارات پہنچے۔ اس کے کم و بیش دو ہفتے بعد اماراتی وزیر خاجہ نے وزیر اعظم عمران خان کو فون کیا۔ جس کے بعد حال ہی میں بھارت نے دورۂ سری لنکا کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے طیارے کو 2019 کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی۔ علاوہ ازیں فائر بندی کا اعلان ہونے کے بعد امارات اس کا خیر مقدم کرنے والے گنے چنے ممالک میں شامل تھا۔ جب کہ واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس اس معاہدے میں امریکی کردار سےمتعلق پوچھا گیا سوال ٹال گئے تھے۔
جریدے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین قیام امن کے اس خفیہ روڈ میپ اور اس میں عرب امارات کے کردار سے متعلق پاکستانی، بھارتی اور اماراتی دفاتر خارجہ نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر کروانے کے امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
