پاک فوج نے افغانستان میں دہشتگردوں کےکیمپوں کونشانہ بنایا،طارق فضل

وفاقی وزیر طارق فضل چودھری کاکہناہے کہ ہ افغانستان میں ہوئی حالیہ کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ تھیں، ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے افغانستان میں کی گئی پاکستان کی فضائی کارروائی پر حکومت کا باضابطہ موقف پیش کیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان کو بارہا سرحد پار دراندازی کے ثبوت دیے مگر افغان حکومت نے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا، ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ افغانستان میں ہوئی حالیہ کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ تھیں، ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا یہ کارروائی ایک دم سے نہیں ہوئی اس کا ایک پس مںظر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے طالبان حکومت کو دہشت گردوں کی افغان سرحد سے پاکستان میں دراندازی کے متعدد ثبوت پیش کیے، دہشت گردوں کے کیمپوں کی نشاندہی بھی کی۔
طارق فضل چودھری کاکہناہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ 10ارب روپے دے دیں تو ہم ان دہشت گردوں کے کیمپس کو سرحد کی دوسری جانب منتقل کردیں گے، یہ ایک اعتراف تھا کہ دہشت گردوں کے کیمپ وہاں موجود تھے، پاکستان نے کہا دس ارب روپے لینے کے بعد کیا گارنٹی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی نہیں کریں گے تاہم طالبان دہشت گردی کے خاتمے کی گارنٹی بھی نہیں دے رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں ہوئے حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، معذرت کے ساتھ ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے، افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشت گردی ہو رہی ہے اس کے بڑے مصدقہ ثبوت ہمارے پاس ہیں یہ ثبوت افغانستان کے سامنے بھی رکھے گئے، افغان طالبان رجیم سے متعدد دفعہ درخواست کی گئی کہ افغانستان سے دراندازی روکی جائے مگر افغان رجیم نے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
