پاک فوج کے افسران کو ملنے والی مراعات کی مکمل کہانی

روایت ہے کہ پاکستان کے پہلے آرمی چیف جنرل گریسی کو اپنے ماتحت فوجی افسر کا خط موصول ہوا جس میں تب پلاٹ لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ گورے آرمی چیف نے جواب میں اس افسر کو لکھا کہ بتائے کس قانون کے تحت آپ کو یہ پلاٹ ملنا چاہیے؟ اس وقت تو یہ بات رفع دفع ہو گئی مگر مسقتبل قریب میں پلاٹ کے خواہشمند یہ افسر نہ صرف آرمی چیف کے عہدے تک پہنچ گئے بلکہ انھوں نے ملک میں مارشل لا نافذ کر کے خود کو فیلڈ مارشل بھی پرموٹ کر لیا ۔ یہ تھے پہلے فیلڈ مارشل صدر پاکستان جنرل ایوب خان، جنھوں نے نہ صرف اپنی پلاٹ حاصل کرنے کی خواہش پوری کی بلکہ پاکستان آرمی میں پلاٹ کلچر کو بھی فروغ دیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق آرمی کے متعدد ریٹائرڈ افسران اس واقعے کی تصدیق کرتے ہیں۔ دراصل پاکستان میں فوجی افسران کو مراعات دینے کا نظام ایوب دور سے رائج ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ فوجی افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد جو پلاٹ، گھر اور دیگر مراعات ملتی ہیں اس کا تعلق فوج میں گزارے گئے وقت یا ٹائم پیریڈ سے ہوتا ہے۔ عسکری حکام کے مطابق فوجی افسر کو ملازمت کے پہلے دن ہی ایک آپشنل فارم دیا جاتا ہے جو آرمی ہاؤسنگ کی رکنیت اختیار کرنے کا ہوتا ہے۔ رکنیت حاصل کرنے والے کو ایک لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ دینی ہوتی ہے اور پھر اس کی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی رہتی ہے۔
ریٹائرڈ بریگیڈیئر واصف علی کے مطابق شروع میں تو فوجی افسران کی تعداد کم تھی تو سب کو مراعات مل جاتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اب زرعی زمین کی الاٹمنٹ حق نہیں بلکہ دستیابی سے مشروط ہوتی ہے۔ ان کے مطابق خدمات کی بنیاد پر مراعات کا سلسلہ انگریز دور سے ہی جاری ہے جب گوروں کی خدمت کے بدلے خطابات، وظیفے اور زمین انعام میں دی جاتی تھی۔ انگریز کی خدمت کے بدلے کسی کو نواب تو کسی کو خان کا ٹائٹل ملتا تھا۔ سر کا خطاب لینے والے تو بہت ہی خوش قسمت سمجھے جاتے تھے.
پاکستان آرمی میں افسران کو حاصل مراعات سے متعلق بی بی سی کی ریسرچ کے مطابق ضابطہ کار کے تحت جب کوئی فوجی افسر 15 سال سروس کر لیتا ہے تو پھر وہ ایک پلاٹ کا حقدار ہو جاتا ہے۔ اس عرصے میں زیادہ تر افسران میجر کے رینک تک پہنچ چکے ہوتے ہیں، یعنی میجر کے عہدے سے ہی فوج میں مراعات ملنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب ایک افسر تقریباً 25 سال تک ملازمت کر لیتا ہے تو اس کے بعد وہ مراعات کے دوسرے پیکج کا حقدار ہو جاتا ہے۔ 25 سال کی ملازمت کے بعد افسران کرنل یا بریگیڈیئر کے رینک پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ مصنفہ عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ جب کوئی بریگیڈیئر وار کورس کر لیتا ہے تو اس کے بعد وہ دو کمرشل اور ایک رہائشی پلاٹ کا حقدار ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس کورس کے بغیر بریگیڈیئر دو رہائشی اور ایک کمرشل پلاٹ حاصل کرتا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی میں میجر جنرل بننے سے ایک اضافی پلاٹ مل جاتا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل چار پلاٹوں تک کا حقدار ہو جاتا ہے۔ یہ پلاٹ رہائشی اور کمرشل ہوتے ہیں۔ البتہ یہ مختلف شہروں میں الاٹ کیے جاتے ہیں۔ ایک فور سٹار جنرل جو سروسز چیف بھی بن سکتا ہے، اسے ریٹائرمنٹ پر تین سرکاری ملازمین بھی دیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک گھر کا ملازم، دوسرا ٹیلی فون آپریٹر اور تیسرا ڈرائیور ہوتا ہے۔ عائشہ صدیقہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل اگر کور کمانڈر بھی رہا ہو تو پھر ایسی صورت میں وہ تین سال تک اس عہدے پر رہتا ہے۔ ان کے مطابق ڈی ایچ اے کے ہر نئے سیکٹر میں کور کمانڈر کو پلاٹ ملتا ہے۔ ان کی رائے میں یہ پلاٹ دوسرے شہروں کے ڈی ایچ ایز کے ساتھ ایکسچینج بھی کیے جا سکتے ہیں، تاہم عسکری حکام ان کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ اپنی بات کی دلیل کے طور پر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ تین سال تک سدرن کمانڈ کے سربراہ رہے مگر ان کا اثاثوں میں ایک پلاٹ بھی بلوچستان میں نہیں دکھایا گیا ہے۔
عائشہ صدیقہ کے مطابق ایک جنرل ریٹائرمنٹ پر پلاٹوں اور زرعی زمین کی مد میں ایک ارب روپے سے زائد کی مراعات حاصل کر لیتا ہے۔ عسکری حکام کے مطابق مشرف کے دور میں فوجی مراعات کی پالیسی تنازعات کا شکار بنی مگر سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں اس معاملے میں زیادہ شفافیت لائی گئی۔ تاہم ان کے دور میں ڈی ایچ اے مختلف تنازعات کی زد میں بھی رہا اور متعدد معاملات عدالتوں تک پہنچ گئے۔ عائشہ صدیقہ کے مطابق ضیاء الحق دور کے بعد آرمی افسران کی مراعات میں زیادہ اضافہ کیا گیا اور اس کے بعد اس میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہا۔ فوجی افسران کو ان کے عہدے کے اعتبار سے ریٹائرمنٹ کے بعد زرعی زمین بھی الاٹ کی جاتی ہے۔
ماضی میں سابق آرمی چیف راحیل شریف کو لاہور میں 90 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ خبروں کی زینت بنتی رہی۔ یہ زمین سرحدی علاقے کی زمین کہلاتی ہے اور جنرل راحیل شریف کو تین شرائط پر جی ایچ کیو کی طرف سے یہ زمین 33 سال کی لیز پر دی گئی ہے۔ فوج میں میجر کے عہدے سے مراعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تاہم زرعی زمین کرنل سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل تک افسر کو تقریباً دو مربع زرعی زمین 99 سال کی لیز پر دی جاتی ہے جبکہ جنرل کو مزید اضافی زمین ملتی ہے۔ یہ افسران ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی کی ہاؤسنگ کالونیوں میں گھر بھی حاصل کرتے ہیں۔
لیکن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شعیب امجد کے مطابق فوجی افسران کو جو زرعی زمین لیز پر ملتی ہے وہ بنجر ہوتی ہے اور اسے آباد کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ یہ نہری بھی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ٹیوب ویل کا انتظام فوجی افسر نے خود کرنا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں چولستان میں 50 ایکڑ زرعی زمین ملی جس پر وہ سات سال تک کام کراتے رہے۔ ریت زیادہ ہونے کی وجہ سے 25 ایکڑ سے ریت نکال کر دوسرے 25 ایکڑ پر ڈال دی گئی۔ مگر یہ زمین دور ہونے کی وجہ سے انھیں یہ 75 لاکھ میں بیچنی پڑی اور اس کے بعد انھوں نے اپنے خاندان کے لیے راولپنڈی میں ایک گھر خرید لیا۔ ان کے مطابق یہ زمین بیچنے کے لیے جی ایچ کیو سے اجازت لینی ضروری ہوتی ہے۔ جنرل امجد کے مطابق ان کے دور میں فوج افسران کو کینٹ میں ملٹری لینڈ پر گھر لیز پر دیا جاتا تھا جسے 20 سال تک فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب فوجی افسران کو آرمی کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹ اور گھر الاٹ کیے جاتے ہیں۔
تاہم عائشہ صدیقہ کے مطابق جس طرح کی مراعات پاکستان فوج کے اعلی افسران حاصل کرتے ہیں اس کی مثال میانمار اور مصر جیسے ممالک کے علاوہ دنیا کے کسی اور ملک میں بمشکل ہی ملتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button