پروٹین سے کورونا مریضوں کے آزمائشی علاج میں اہم پیشرفت

برطانیہ کی ایک دوا ساز کمپنی نے کورونا وائرس کے مریضوں کا پروٹین سے آزمائشی علاج ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ برطانوی کمپنی سنئرجن کا کہنا ہے کہ اس علاج سے کورونا سے شدید متاثرہ مریضوں کی مشکلات کو ایک سے 16 دن میں 79 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
سنئرجن کے مطابق کلینیکل ٹرائل کے ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ 19 کا نیا علاج انتہائی نگہداشت کی ضرورت والے مریضوں کی تعداد کو کم کر دیتا ہے۔ کمپنی کا اعلامیے میں کہنا ہے کہ اس علاج کے لیے انٹرفیرون بیٹا نامی پروٹین کا استعمال کیا جاتا ہے جسے انسانی جسم وائرل انفیکشن ہونے پر بناتا ہے۔ مدافعتی ردعمل کو متحرک کرنے کے مقصد کے لیے پروٹین کورونا وائرس کے مریضوں کے پھیپھڑوں میں براہ راست سانس کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے قوانین کے تحت سنئرجن ابتدائی ٹرائل کی رپورٹ بتانے کی پابندی ہے تاہم ابھی تک یہ نتائج کسی بھی جرنل میں شائع نہیں ہوئے ہیں اس لیے اس طریقہ علاج کے درست ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اگر کمپنی کے بتائے کے نتائج درست ہیں تو یہ کورونا کے مریضوں کے علاج کی جانب ایک بڑی پیشرفت ہے۔ اس تحقیق کے انچارج سائنسدان ٹام ولکنسن کا کہنا ہے کہ اگر یہ نتائج وسیع ٹرائلز میں بھی ملے تو یہ طریقہ علاج ‘گیم چینجر’ ثابت ہو گا۔ سنئرجن کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ مارسڈن نتائج سے بےحد مطمئن ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس سے بہتر نتائج کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک دو روز میں اپنے نتائج دنیا بھر میں میڈیکل ریگولیٹر کے سامنے پیش کرے گی اور یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ انہیں اس دوا کی منظوری کے لیے مزید کس قسم کی معلومات درکار ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی برطانوی سائنس دانوں نے ڈیکسامیتھاسون کو کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچانے والی مؤثر دوا قرار دیا تھا جب کہ حال ہی میں روس کی وزارت دفاع نے بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کی مستند ویکسین بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب چین کی سائنوواک بائیوٹیک اس وقت دنیا کی پہلی کمپنی ہے جس نے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے تیار کی گئی اپنی ویکسین کے تیسرے یعنی آخری مرحلے کے ٹرائلز برازیل میں شروع کر دیے ہیں۔
