پرویز اسمبلی توڑنے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کے مشورے سے کریں گے

عمران خان کی جانب سے پنجاب اسمبلی توڑنے کی اعلان کے باوجود گجرات کے سیانے چوہدری آخری فیصلہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مشورے سے ہی کریں گے، لہذا پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا امکان بہت کم نظر آتا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئیر صحافی اور تجزیہ کار  نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جب عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کیا تو میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ اسے عملی صورت دینے میں کونسی دشواریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن دلائل پر توجہ دینے کی ہمیں عادت نہیں رہی۔ عاشقان عمران بضد رہے کہ دونوں اسمبلیوں کے مستقبل کی بابت اب صبح گیا یا شام گیا والا معاملہ ہو چکا ہے۔ لہذا ٹی وی سکرینوں پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کی تحلیل ذہن میں رکھتے ہوئے مستقبل کے بارے میں زائچہ نویسی بھی ہوتی رہی۔ رونق تو لگ گئی مگر ٹھوس نتیجہ ابھی تک برآمد نہیں ہو پایا ہے۔ پھر اکتاہٹ کی حد تک دہرائے زائچوں کو کچھ ”نیا“ فراہم کرنے کے لئے چودھری مونس الٰہی میدان میں اترے اور یہ انکشاف کر دیا کہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں سے وعدوں کے باوجود پرویز الٰہی بالآخر عمران خان کا ساتھ دینے کو اس لئے مجبور ہوئے کیونکہ جنرل باجوہ نے انہیں ایسا کرنے کے لئے کہا تھا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مونس الٰہی نے اپنی زبان سے جو دعویٰ کیا وہ اسلام آباد کے کئی باخبر صحافی رواں برس کے اپریل ہی سے جان چکے تھے۔ فرزند پرویز الٰہی نے اس کی تصدیق کرنے میں کافی وقت لیا۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھانا ضروری تھا کہ اس کی تصدیق کے لئے انہوں نے اس دن کا انتخاب ہی کیوں کیا جب ان کے والد لاہور کے زمان پارک میں عمران سے ہوئی ملاقات کے بعد پراسرار انداز میں پنڈی تشریف لا چکے تھے۔ اسلام آباد کے جڑواں شہر میں ان کی ”اہم لوگوں“سے ہوئی ملاقاتوں کے بارے میں پنڈی اور اسلام آباد کے متحرک ترین صحافی بھی بے خبر ہیں۔ چودھری صاحب کی فراہم کردہ تصدیق نے البتہ ہمارے منظم اور طاقت ور ترین ادارے کے اس دعویٰ کو شدید زک پہنچائی ہے کہ رواں برس کے فروری سے وہ سیاسی مسائل سے کنارہ کش ہو چکے تھے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ شکوک بھرے سوالات اٹھاتے ہوئے یہ حقیقت نظرانداز کی جا رہی ہے کہ سابق آرمی چیف کی چند ذاتی ترجیحات بھی تھیں۔ ان کے حصول کے لئے وہ اپنے ادارے کی بھرپور معاونت کے محتاج نہیں تھے۔ چھ برس تک اقتدار کے کھیل پر کامل گرفت کے بعد وہ اپنے تئیں بھی کوئی گیم لگانے کے قابل ہوچکے تھے۔ ذاتی ترجیحات کے حصول کے لئے ان کے پاس ”قاصدوں ا ور پیغامبروں“ کا ایسا نیٹ ورک بھی موجود تھا جو ان کے ذہن میں موجود اہداف کے حصول کو ممکن بنا سکے۔

تحریک عدم اعتماد کی بدولت اقتدار سے محروم ہوجانے کے بعد عمران خان نے جو جارحانہ انداز اپنایا اس نے سابق آرمی چیف کو یقینا پریشان کردیا تھا۔ تکنیکی اعتبار سے وہ 2022 کا سورج طلوع ہوتے ہی کسی قابل ستائش ”ورثے“ کے ساتھ رخصت ہونا چاہ رہے تھے۔ مگر حیران کن حد تک جارحانہ ہونے والے عمران انہیں مطلوبہ ورثے سے محروم کرنے کو تلے ہوئے تھے۔عمران کی جگہ جو اتحادی حکومت قائم ہوئی وہ آئی ایم ایف کو رام کرنے میں مصروف رہی۔ ریاست کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی فکر میں مبتلا حکومت کے پاس اتنی سکت ہی موجود نہیں تھی کہ وہ جنرل باجوہ کو قابل ستائش ورثے کے ساتھ اپنے عہدے سے رخصت ہونے کو یقینی بنا سکتی۔

وفاق میں شہباز شریف کے بطور وزیر اعظم انتخاب کے بعد پنجاب انکے فرزند اور سیاسی وارث حمزہ شہباز شریف کے حوالے کر دینا عوام کو پسند نہیں آیا تھا۔ حمزہ کے انتخاب نے نئی نسل کی کی ”موروثی سیاست“ سے نفرت کو بھڑکا دیا۔ مگر پنجاب کو عثمان بزدار کے سپرد رکھنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ پرویز الٰہی آپا دھاپی کے اس ماحول میں ”سب دھڑوں کے لئے قابل قبول“ تھرڈ آپشن کی صورت نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ وفاقی حکومت میں فقط شہباز شریف کی ”انتظامی صلاحیتوں“ کے معترف تھے۔ اتحادی حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کی قیادت کے بارے میں وہ مثبت خیالات کے حامل نہیں۔ اس ضمن میں اپنے دل کی بات کو انہوں نے سینئر صحافیوں کی موجودگی میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ہونے والی ایک ”آف دی ریکارڈ “ گفتگو میں کھل کر بیان بھی کردیا تھا۔ ان کا بیان یہ عیاں کرنے کو کافی تھا کہ وہ شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہوئی وفاقی حکومت پر مضبوط ”چیک“ بھی رکھنا چاہ رہے ہیں۔ پرویز الٰہی کائیاں اور تجربہ کار سیاست دان ہوتے اس ضمن میں انہیں بہت کارآمد محسوس ہوئے اور چودھری صاحب نے آخری وقت تک اپنے مربی کو اس تناظر میں مایوس نہیں کیا۔

نصرت جاوید کے بقول وفاقی حکومت پر تخت لاہور کے ذریعے ”چیک“ رکھنے کا سلسلہ ہمارے ہاں محمد خان جونیجو کے دور ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ نواز شریف اس مقصد کے حصول کے لئے جنرل ضیاءکی فضائی حادثے میں رحلت کے بعد بھی 1990 سے 1993 تک بہت کارآمد ثابت ہوئے۔ اپریل 1993 میں انہوں نے ”خود مختار“ ہونے کی جرات دکھائی تو نئے انتخابات لازمی ہو گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ان کی بدولت وزیر اعظم کے منصب پر لوٹ آئیں۔پنجاب مگر ان کے حوالے نہ ہوا۔میاں منظور وٹو نے وہی کردار ادا کرنا شروع کر دیا جو پرویز الٰہی کو اپریل 2022 میں سپرد ہوا تھا۔ میرا خیال ہے کہ مونس الٰہی کا ”تازہ ترین انکشاف“ مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش تھی کہ بالآخر وفاق میں جو بھی اقتدار میں آئے، عمران خان ہوں یا ان کے مخالف ،اسلام آباد کو لاہور کے ذریعے قابو میں رکھنا ہے تو انہیں گجرات کے سیانے چودھریوں کی ضرورت رہے گی۔ لیکن یہ پیغام دیتے ہوئے وہ یہ حقیقت فراموش کر رہے ہیں کہ سیانوں کی بھی انگریزی زبان میں ایک ”شیلف لائن“ ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو منظور وٹو جیسے ابھی تک اپنے جلوے دکھا رہے ہوتے۔

Back to top button