پرویز الٰہی بمقابلہ حمزہ شہباز، مقابلہ کون جیتے گا؟

وزیراعظم عمران خان کی اتوار کے روز اپوزیشن کے ہاتھوں یقینی شکست کے پیش نظر اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے خود کو وزیر اعلی پنجاب بنوانے کے لئے ہفتے کے روز جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ مرکز میں تبدیلی سے پہلے پنجاب کی وزارت اعلی پر قبضہ کیا جا سکے۔ اسی لیے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے جمعہ کے روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کرنے کے بعد نئے وزیر اعلٰی کے انتخاب کے لیے دو اپریل بروز ہفتہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کرلیا تاہم اب صوبائی اسمبلی کا اہم اجلاس 3 اپریل کو ہو گا جس میں قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ گورنر ہاؤس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر پنجاب نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 109 کے تحت صوبائی اسمبلی کا 40واں اجلاس 2 اپریل کو طلب کیا ہے جس میں آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت نئے قائد ایوان یعنی وزیر اعلی کا انتخاب ہوگا۔
خیال رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے ساتھ ڈیل کے بعد عمران خان نے عثمان بزدار سے 28 مارچ کو استعفی لے لیا گیا تھا جسے اب منظور کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 اپریل کے روز وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ سے پہلے 2 اپریل کو پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اسکے بعد پرویز الہی کے وزیر اعلی بننے کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں نے جہاں وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی وہیں پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔ لیکن اب عثمان بزدار کے استعفی کے بعد ان کے خلاف دائر کردہ تحریک عدم اعتماد خود ہی ختم ہو گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز الہی ایک ہارا ہوا جوا جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اگر وہ کسی صورت پنجاب کے وزیر اعلی بن بھی جائیں تو ان کا اقتدار چند روز میں ختم ہوجائے گا خصوصا جب کہ مرکز میں عمران حکومت الٹ جائے گی۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب کی جانب سے عجلت میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلا کر نیا قائد ایوان منتخب کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جلدی جلدی پرویز الہی کو وزیر اعلی بنا دیا جائے، حکومتی جماعت کا خیال ہے کہ اپوزیشن نے ساری توجہ وفاق میں تحریک عدم اعتماد پر مرکوز کر رکھی ہے اور اس کی پنجاب کی وزارت اعلی کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں، لہذا پرویز الہی اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اپوزیشن ذرائع کا دعوی ہے کہ پرویز الٰہی کی کوشش ناکام ہو گی کیونکہ تحریک انصاف واضح طور پر تین گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور ابھی تک ان میں سے کسی بھی گروپ نے پرویز الٰہی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔
یاد رہے کہ ان تین گروپس میں جہانگیر خان ترین کے ساتھ 20 لوگ ہیں، علیم خان کے ساتھ 10 لوگ ہیں جبکہ غضفر چھینہ کے ساتھ 14 لوگ ہیں۔ لہٰذا ان تین گروپوں کے 44 ممبران پنجاب اسمبلی کی غیر موجودگی میں پرویز الہی کے لئے وزیر اعلی بننا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ پنجاب میں اپوزیشن اتحاد وزارت اعلیٰ کے لیے کس شخص کو امیدوار بناتا ہے۔ اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کی جانب سے 2 اپریل کو ہی وزارت اعلی کا الیکشن کروانے کے فیصلے کے بعد عجلت میں شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو وزارت کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے کیونکہ اگر ترین یاعلیم گروپوں میں سے کسی کو نامزد کیا جائے تو ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ہے۔
علیم خان گروپ پہلے ہی پرویز الہی کو بطور وزیر اعلی مسترد کر چکا ہے جبکہ ترین گروپ کے مطابق پرویز الٰہی نے اُن سے رابطہ کیا ہے لیکن اُن کی حمایت کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ابھی گروپ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتِ حال میں پرویز الٰہی کا کڑا امتحان ہے جس میں اُن کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہی نظر آ رہے ہیں۔ تاہم اس سارے کھیل میں اپوزیشن کے امیدوار کی شکست کا امکان تب پیدا ہوتا ہے جب حمزہ شہباز شریف کی بطور وزیر اعلی نامزدگی پر تحریک انصاف کے باغی دھڑے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیں کیونکہ مرکز میں ان کے والد شہباز شریف وزیراعظم بننے جا رہے ہیں۔ ایسے میں باپ اور بیٹے کا مرکز اور پنجاب میں چیف ایگزیکٹو بننا قابل اعتراض ہو سکتا ہے۔
