پرویز الٰہی نے اپنے انتخابی حلقے کو 45 ارب کے ترقیاتی فنڈز دے دیے

اپنے آبائی ضلع گجرات کو ڈویژن کا درجہ دینے کے بعد اب وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اقربا پروری کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے اپنے انتخابی حلقے اور اپنے بیٹے اور دیگر رشتہ داروں کے انتخابی حلقوں کے لیے 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کر دیے ہیں۔ صرف وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے اپنے انتخابی حلقے میں 113 ترقیاتی سکیمیں شروع کی گئی ہیں جن کی مالیت 45 ارب روپے ہے۔ یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے پرویز الٰہی پی پی 80 کی صوبائی نشست پر اور ان کے بیٹے مونس قومی اسمبلی کی این اے 69 کی نشست پر منتخب ہوئے ہیں۔ حسین الٰہی کے حلقے این اے 68 میں 103 نئی سکیمیں شروع کرائی گئی ہیں جن کی مالیت 10 ارب روپے ہے۔ یہ تمام سکیمیں ضمنی گرانٹس کے ذریعے منظور کی گئی ہیں اور وہ بھی تب جب سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔
سینئر صحافی عمر چیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ 100 ارب روپے مالیت کے 70 فیصد ترقیاتی فنڈز چار حلقوں کے دو خاندانوں کو ملے ہیں۔ گجرات کے ڈویژنل دفاتر میں ضروری ساز و سامان اور انفرااسٹرکچر پر ہونے والے اخراجات مذکورہ بالا فنڈز سے علیحدہ ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ رواں سال ماہِ جون میں پنجاب حکومت کے پاس بجٹ کی منظوری کے وقت اپنے اکائونٹس میں 440؍ ارب روپے کی سرپلس رقم موجود تھی۔ گجرات اور منڈی بہائو الدین کیلئے فنڈز اسی رقم سے ادا کیے گئے ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (2022-23ء) کیلئے مجموعی طور پر 700؍ ارب روپے رکھے گئے تھے جس میں سے ایک بڑا حصہ گجرات ڈویژن کو اس کے چار چھوٹے اضلاع کیلئے دیدیا گیا ہے، جن میں گجرات، منڈی بہائو الدین، وزیر آباد اور حافظ آباد شامل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود فنڈز کا بڑا حصہ دو خاندانوں کیلئے رکھا گیا ہے۔
عمر چیمہ کے مطابق گجرات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی اور بھائی چوہدری وجاہت کے بیٹے چوہدری حسین الٰہی ہوں گے۔ تمام ارکان اسمبلی کے مقابلے میں سب سے زیادہ فنڈز منڈی بہائو الدین سے رکن صوبائی اسمبلی ساجد بھٹی کو ملے ہیں۔ موصوف پرویز الٰہی کے پرنسپل سیکریٹری اور ان کے دست راست محمد خان بھٹی کے بھیجتے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔ حلقے میں ترقیاتی کاموں کیلئے جاری کردہ ٹینڈر کی تفصیلات دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ فنڈز کا حجم 15؍ ارب ڈالرز ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سڑکوں کی مرمت کا 50؍ فیصد کام وہی ہے جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کرایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، 90؍ فیصد رقم کی ادائیگی پہلے ہی کی جا چکی ہے جبکہ کام صرف 20؍ فیصد ہوا ہے۔ عمر چیمہ کے مطابق اس حوالے سے مونس الٰہی کو سوالات بھیجے گئے تو انہوں نے کہا کہ انہیں سکیموں کی تعداد کے بارے میں یقین نہیں ہے لیکن انہوں نے تصدیق کی کہ انہیں گجرات ڈویژن کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ انہوں نے حلقوں کیلئے فنڈز مختص کرنے کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ لاہور کے لیے ایکسپریس وے کو بلند کرنے کے لیے 80 ارب روپے کی ایک سکیم منظور کی گئی ہے۔ تاہم جب ان سے مذکورہ حلقوں کے لیے منظور شدہ اسکیموں کی مالیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیمیں منظور ہونے کے وقت ان کے والد وزیراعلیٰ نہیں تھے۔ جب ان کو بتایا گیا کہ سکیموں کو سپلیمنٹری گرانٹس کے ذریعے منظور کیا گیا تھا اور یہ ان کے والد کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کیا گیا تھا، تو انہوں نے تاریخیں دوبارہ چیک کرنے کو کہا۔ جب عمر چیمہ نے تصدیق کی کہ انہیں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے منظور کیا تھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ یہ ترقیاتی سکیمیں جلد بازی میں منظور کی گئی ہیں اور ان کیلئے کوئی فزیبلٹی سٹڈی بھی نہیں کرائی گئی۔ عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے کا اس طرح بے دریغ استعمال، وہ بھی صرف چند حلقوں کیلئے اور بغیر کسی احتیاطی اقدام کے، سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے کیونکہ یہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی بھی ہے۔ پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بننے سے قبل، رواں سال جولائی میں 9؍ ارب روپے کی 164؍ سکیمیں منڈی بہائو الدین اور گجرات کیلئے منظور ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ان دو اضلاع کیلئے بجٹ پہلے بڑھ کر 54؍ ارب اور اس کے بعد بڑھا کر 100؍ ارب روپے تک پہنچا دیا گیا۔ اب یہاں صرف ایک حلقے میں 113 ترقیاتی سکیمیں دی گئی ہیں جن کی مالیت 45 ارب روپے ہے جہاں پرویز الٰہی صوبائی نشست پر اور ان کے بیٹے مونس قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے ہیں۔ حسین الٰہی کے حلقے این 68 میں 103؍ سکیمیں شروع کرائی گئی ہیں جن کی مالیت 10؍ ارب روپے ہے۔ اس کے بعد منڈی بہائو الدین کیلئے 116؍ اسکیمیں منظور کرائی گئی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اسکیمیں پی پی 67؍ کے حلقے کی ہیں جو بھٹی کا حلقہ ہے اور ان کی مالیت 20؍ ارب روپے ہے۔ یہ تمام اسکیمیں ضمنی گرانٹس کے ذریعے منظور کی گئی ہیں وہ بھی اس وقت جب ملک میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔ تاہم ڈیرہ غازی خان اور بھکر کے متاثرہ علاقوں کے لیے مختص فنڈز میں کٹوتی کی گئی ہے۔ بہاولنگر اور خوشاب کے بجٹ کو بھی کم کیا گیا ہے اور یہاں سے پیسے نکال کر وزیر اعلیٰ پنجاب کے آبائی شہر گجرات کے لیے مختص کر دیئے گئے ہیں۔
