پرویز الٰہی ہنی مون منانے لندن گئے ہیں یا کچھ اور کرنے؟

پاکستانی سیاست میں لندن ہمیشہ سے اہم رہا ہے اور جب بھی کسی حکومت کو گرانے کی سازش تیار ہوتی ہے تو اسے لندن پلان کا نام دے دیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی آج کل یہ بات بار بار کر رہے ہیں کہ ان کے خلاف ’سازش‘ لندن میں تیار ہوئی۔ اس سے پہلے 2014 میں نواز شریف نے یہ الزام لگایا تھا کہ عمران خان اور طاہر القادری نے ان کی حکومت کے خلاف لندن پلان تیار کیا تھا۔ اب نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی اپنے والد سے ملنے لندن پہنچ گئی ہیں اور یہ شنید بھی ہے کہ وہ اپنے والد کو ساتھ لے کر وطن واپس لوٹیں گی۔ لیکن ایک ایسے وقت میں کہ جب عمران خان حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی کا لندن پہنچ جانا حیران کن ہے۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ان کا دورہ لندن ایسے وقت میں کیوں ہو رہا ہے جب مریم نواز بھی لندن پہنچی ہیں اور نواز شریف کی بھی وطن واپسی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سوال یہ بھی ہو رہا ہے کہ کیا شریف فیملی اور چوہدری خاندان کے درمیان کچھ نیا پک رہا ہے؟ بظاہر اسکی تردید چوہدری پرویز الہٰی نے خود لندن میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کر دی ہے لیکن افواہوں کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔

پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب دراصل اپنی دوسری اہلیہ سارا چوہدری کے ساتھ دوسرا ہنی مون منانے لندن آئے ہیں اور ان کا دورہ نجی نوعیت کا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کئی دیگر پاکستانی سیاست دانوں کی طرح گجرات کے چوہدریوں کا بھی دوسرا مسکن یورپ ہے۔ تاہم پرویز الٰہی کا ایسے حالات میں دورہ لندن جب پاکستان کے سیاسی حالات انتہائی اہم موڑ پر ہیں، کسی اچنبھے سے کم نہیں لگتا۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان نے اس نازک موڑ پر پرویز الٰہی کے لندن جانے کا سخت برا منایا ہے اور ان کی غیر موجودگی میں دو مرتبہ لاہور میں اعلی سطح پر بھی اجلاس کر ڈالے ہیں۔ خان صاحب نے تو سی سی پی او لاہور کے ساتھ بھی ملاقات کر ڈالی اور ان سے یہ مطالبہ کر دیا کہ علیم خان کو فوری گرفتار کرنے کے لیے کوئی کیس تیار کیا جائے۔ لیکن علیم خان بھی عمران کے ارادے بھانپتے ہوئے بیرون ملک روانہ ہو چکے ہیں اور ان کے بارے میں بھی یہی اطلاع آ رہی ہے کہ وہ لندن پہنچ چکے ہیں۔

اس دوران یہ اطلاع بھی آ رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے قریبی ساتھیوں اور پنجاب کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ بننے سے گریز کیا جائے کیونکہ وہ صرف حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے بھی خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ پرویز الٰہی کا یہ موقف ہے کہ وہ عمران کے لانگ مارچ کی اخلاقی حمایت تو کریں گے لیکن عملی طور پر انکا ساتھ نہیں دیا جاسکتا۔ لندن میں پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکے اچانک پاکستان چھوڑنے کی ایک وجہ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے لئے وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز سے دو ارب روپے دینے کا مطالبہ تھا۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ جب ان کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے تو وہاں دھرنا دینے کے لیے ان کے پاس مناسب فنڈز موجود ہوں۔ تاہم تحریک انصاف کے ذرائع اسے الزام قرار دیتے ہیں۔

لیکن دوسری جانب لندن میں اپنے قیام کے دوران چوہدری پرویز الٰہی بظاہر عمران خان کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ لندن میں نیوز کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے عمران کے اتحادی پارٹنر سے پوچھا کہ خان صاحب ’نیوٹرلز‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کیوں کرتے ہیں، خاص طور پر جب مسلم لیگ (ق) کو فوج کے ساتھ تعلقات اچھے لگتے ہیں۔اس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ ’یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ ماضی کی بات ہے اور ختم ہو چکی ہے، اب ایسا نہیں ہے۔اگرچہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مزید کوئی وضاحت نہیں کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایوان صدر میں ہونے والی عمران اور باجوہ میٹنگ کی ناکامی کے بعد عمران خان کا لہجہ اور بھی سخت ہو گیا ہے اور وہ فوجی قیادت پر رقیق حملے کر رہے ہیں۔ اسی دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران کی جانب سے اپنے عہدے میں توسیع کی تجویز کو رد کرتے ہوئے نومبر میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد عمران کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

Back to top button