پرویز مشرف اور سنجےدت کی ملاقات کہاں اور کیسے ہوئی؟


اپنی جادو کی جپھی کے لئے مشہور، بھارتی اداکار سنجے دت، عرف منا بھائی ایم بی بی ایس سوشل میڈیا پر فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کیساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد، انڈین اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
دو دفعہ پاکستانی آئین توڑنے والے سابق فوجی آمر کی بھارتی اداکار سے ملاقات کی تصویر 17 مارچ کو فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر وائرل ہوئی، جس میں مشرف کو قدرے کمزور حالت میں ایک ویل چیئر پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، وائرل ہونے والی تصویر میں پرویز مشرف جہاں ویل چیئر پر بیٹھے سنجے دت کی جانب دیکھ رہے ہیں اور ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے دونوں آپس میں کوئی بات کر رہے ہوں۔
تصویر میں بالی ووڈ اداکار سنجے دت کو ویل چیئر پر بیٹھے سابق آرمی چیف کے قریب ایکسرسائیز کے لباس میں کھڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تصویر میں ایک اور نامعلوم شخص بھی دکھائی دیتا ہے جوکہ سنجے دت کے بات کرنے پر مسکراتا ہوا نظر آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تصویر دبئی میں بنائی گئی ہے جہاں مشرف قیام پذیر ہیں اور سنجے دت کا بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔
تصویر سے معلوم ہوتا ہے کہ سنجے دت کسی ٹینس کورٹ میں موجود ہیں اور کینسر کے مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد اپنی صحت پر توجہ دے رہے ہیں۔ تصویر میں آئین شکنی پر سزائے موت کے حقدار قرار پانے والے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف انتہائی کمزور اور بیمار نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مشرف پچھلے دو برس سے ایک موذی مرض کا شکار ہیں اور چلنے کے قابل نہیں رہے لہٰذا وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں۔
مشرف اور سنجے دت کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے لوگوں نے کمنٹس کرتے ہوئے دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، جہاں پاکستانیوں نے ماضی میں مکے لہرانے والے مشرف کے بیمار پڑنے پر تبصرے کیے، وہیں بھارتیوں نے سنجے دت کو دشمن ملک کے فوجی آمر سے ملاقات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف بھارتی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بھارتی میڈیا میں بتایا گیا ہے کہ سنجے دت اور مشرف کی دبئی میں ایک جم سیشن کے دوران اچانک ملاقات ہوئی، رپورٹ میں آزاد کشمیر کے سابق وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشتاق منہاس کے نام سے بنے ٹوئٹر اکائونٹ سے کی گئی ٹوئٹ کا حوالہ بھی دیا گیا۔ مشتاق منہاس نے اپنی ٹوئٹ میں دونوں کی ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سابق فوجی سربراہ کا نام لیے بغیر لکھا کہ وہ بھی کبھی ڈی چوک پر مکے لہرایا کرتے تھے، انہوں نے تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو!۔ مشتاق کی ٹوئٹ کو ایک شخص نے ری ٹوئٹ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ وائرل ہونے والی تصویر میں کوروما پردے کی طرح ہرا رنگ استعمال کیا گیا، جس کی لائٹنگ بہت بیکار ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اچھے گرافکس ایڈیٹر موجود نہیں۔ مشتاق منہاس کی ٹوئٹ کو درجنوں افراد نے ری ٹوئٹ کرتے ہوئے اس پر طرح طرح کے تبصرے کیے، جہاں بعض لوگوں نے پرویز مشرف پر تنقید کی، وہیں کچھ لوگوں نے مشتاق منہاس کو یاد دلایا کہ بیماری اور زائد العمری کسی پر بھی آ سکتی ہے، اس لیے دوسروں کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے قبل خود سے متعلق سوچیں۔ سنجے دت اور پرویز مشرف کی ملاقات پر جہاں لوگوں نے سنجیدہ تبصرے کیے، وہیں لوگوں نے اس پر مزاحیہ کمنٹس بھی کیے، ایک صارف نے ٹوئیٹ کی کہ لگتا ہے کہ پرویز مشرف نے ڈاکٹر مُنا بھائی ایم بی بی ایس کو اپنا ذاتی معالج رکھ لیا ہے۔
صحافی عفت حسین رضوی نے مشتاق منہاس کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اس عمر میں متقی، پرہیزگار اور نیکوکار کا بھی یہی حال ہوتا ہے، بزرگی یا بیماری عبرت نہیں، ہاں ایک مجرم پہ قانون کی گرفت ہوتی تو کوئی بات بھی تھی۔
ایک صارف نے لکھا کہ بوڑھا شیر بھی شیر ہی ہوتا ہے، ایک شخص نے مشتہاق منہاس کی ہی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اس میں عبرت نگاہ کیا ہے اگر خدا نخواستہ آپ کو وہیل چیئر استعمال کرنا پڑ گئی تو کیا اسے پھر عبرت نگاہ کی لیڈ لگا کر نیوز بنائی جائے گی؟ لیکن کچھ لوگوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایسی تصویریں نشان عبرت ہی ہوتی ہیں۔

Back to top button