پرویز نے اسمبلی نہ توڑی تو PTI اراکین مستعفی ہو سکتے ہیں

پنجاب کے سیانے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے پر عمران خان کیساتھ دھوکا دہی کے خطرے کے پیش نظر قانونی ماہرین نے کپتان کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو تحریک انصاف کے ممبران پنجاب اسمبلی استعفے دے کر پرویز کے اقتدار کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایسی صورت میں پی ڈی ایم ایک مرتبہ پھر سے پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے گی۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے پر بھی تیار ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اس بات کا قویٰ امکان ہے کہ عمران اسمبلیاں توڑنے کے اعلان پر یوٹرن لے جائیں اور پرویز کو اپنا وزیر اعلیٰ برقرار رکھیں۔ شاید اسی لیے پرویز الٰہی کے قریبی حلقے مسلسل یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ان کی ایک اہم خفیہ ادارے کے سربراہ سے ملاقات ہوچکی ہے اور وہ پی ڈی ایم کے ساتھ رابطے میں آچکے ہیں۔
لیکن پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ پر برقرار رکھنے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی اور موصوف عمران کو اسمبلی توڑنے سے روکنے کے لیے ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج غیر سیاسی ہو چکی ہے لہذا پرویز کے قریبی ذرائع کی جانب سے خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات کا دعویٰ بھی جھوٹ کا پلندہ ہے۔ پی ڈی ایم ذرائع کہتے ہیں کہ ان کی قیادت بڑے واضح الفاظ میں عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے کے اعلان پر عمل درآمد کا چیلنج دے چکی ہے لہٰذا وہ اس موڈ میں نہیں کہ پنجاب اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگی قیادت پہلے ہی اپنی صوبائی تنظیم کو پنجاب میں نئے الیکشن کی تیاری کا حکم بھی دے چکی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے حوالے سے سنجیدہ ہیں اور اگر حکومت نے فوری الیکشن کے لیے مذاکرات شروع نہ کیے تو اس اعلان پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیرِ آب پاشی کرنل ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ اگر پرویز الٰہی نے عمران کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی ہدایت پر عمل نہ کیا تو پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی اجتماعی طور پر استعفے دے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں پنجاب حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہاشم ڈوگر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ عمران کی جانب سے ہدایت ملتے ہی وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔ لیکن اگر وہ عمران خان کی ہدایت پر عمل نہیں کرتے تو پی ٹی آئی کے تمام 178 ارکان صوبائی اسمبلی استعفیٰ دے دیں گے جو پرویز الٰہی کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنے گا۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کی کوششوں کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام بھیڑ بکریاں پہلے ہی پی ٹی آئی چھوڑ چکی ہیں اور اب 178 ارکان صوبائی اسمبلی میں ایک بھی ’گندا انڈا‘ نہیں بچا۔
ہاشم ڈوگر کا کہنا تھا کہ ’عمران کو چھوڑنے کے بارے میں اب صرف وہی سوچیں گے جو سیاسی میدان میں نہیں رہنا چاہتے، ویسے بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ پارٹی پالیسی کے خلاف جانے پر منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ق) کے تمام 10 ارکان صوبائی اسمبلی بھی اپنے پارٹی رہنما وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے ساتھ متحد کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی تبدیلی کی باتیں صرف لوگوں میں بے یقینی اور بے چینی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کو یقین ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دی جاتی ہیں تو عمران خان اور پرویز الٰہی کا اتحاد اگلے انتخابات جیت کر 3 ماہ کے اندر اقتدار میں واپس آجائے گا۔ یاد رہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہو گئی ہے، مسلم لیگ اور اتحادیوں کے پاس اس وقت 178 ارکان موجود ہیں، جبکہ تحریک انصاف اور ق لیگ کے ارکان کی تعداد 188 ہے، یاد رہے کہ 15 نئے ایم پی ایز کی شمولیت سے پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی کی تعداد 188 ہوئی تھی جبکہ مسلم لیگ کے تین ارکان کے اضافے سے حکومتی اتحاد کی مجموعی تعداد 178 ہوئی تھی، اس وقت۔پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 166 ہے، پیپلز پارٹی کے 7 ارکان ہیں، 4 آزاد اراکین اور ایک راہ حق پارٹی کا رکن ملا کر پی ڈی ایم کے حامی اراکین کی تعداد 178 بنتی ہے۔ لیکن ضمنی انتخاب میں لودھراں سے جیتنے والے رکن اسمبلی پیر رفیع الدین اور چودھری نثار ابھی تک غیر جانبدار ہیں۔ ایسے میں اگر پرویزالٰہی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے 10 اراکین اسمبلی پی ڈی ایم کے ساتھ چلے جائیں تو پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ لیکن اگر پرویز الٰہی عمران خان کے ساتھ ہی کھڑے رہنے کا فیصلہ کریں اور ان کی جماعت کے چھ اراکین پنجاب اسمبلی ایک فارورڈ بلاک بنا کر پی ڈی ایم کے ساتھ چلے جائیں تو بھی پرویز الٰہی کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
