پشاور بی آر ٹی منصوبہ حکومت کے لیے ایک طعنہ بن گیا

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے شیطان کی آنت کی طرح لمبے ہوتے پشاور بی آر ٹی منصوبے کو ملکی تاریخ کا ایک بڑا اور کامیاب پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو کسی قسم کے دباؤ میں نہ آنے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم مہنگے ترین اور نامکمل پشاور ماس ٹرانزٹ منصوبے کو ملکی تاریخ کا ایک بڑا اور کامیاب منصوبہ قرار دینے پر سوشل میڈیا صارفین نے ایک طوفان کھڑا کرتے ہوئے حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
یاد رہے کہ کئی برسوں سے زیر تعمیر پشاور کے نواحی علاقے چمکنی سے حیات آباد تک 26 کلومیٹر پر مشتمل پی ٹی آئی حکومت کا بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ خیبرپختونخواہ حکومت کے لیے ایک طعنہ بن چکا ہے۔ اپنے آغاز سے ہی شدید عوامی تنقید کی زد میں رہنے والے نامکمل پشاور بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کے بارے اپنے ایک ٹوئٹ میں فواد چودھری نے کہا کہ’میں نے پشاور میں بی آر ٹی منصوبے کا روٹ دیکھا، یہ اتنا بڑا پراجیکٹ ہے کہ پورا پشاوراس سے فائدہ اٹھائے گا، لیکن میں حیران ہوں کہ لوگوں نے اس منصوبے کو دیکھے بغیر ہی کیسی کیسی کہانیاں گھڑیں، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وقت لے اور دباؤ میں نہ آئے۔ جب یہ منصوبہ مکمل سامنے آئے گا تو پراپیگنڈہ کرنے والے خود ہی چھپتے پھریں گے۔


فواد چودھری کے ٹوئٹ پر ڈاکٹر عائشہ نامی صارف نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’ہم بھی حیران ہیں کہ اتنا بڑا پراجیکٹ اتنی باصلاحیت ٹیم کے ہوتے ہوئے ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکا؟ تاریخ پر تاتیخ، تاریخ پر تاریخ… آخر ایسا کیا بن رہا ہے کہ جو مکمل ہی نہیں ہو پا رہا؟ کیا ھم نے امریکہ تک ٹرین چلانی ہے؟‘
نجی ٹیلی ویژن چینل پر مزاحیہ پروگرام کے میزبان خالد بٹ نے بھی فواد چوہدری کی روایت پر عمل کرتے ہوئے حکومت کو ایک نصیحت کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’بی آر ٹی ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے، حکومت کو چاہیے کہ کسی دباؤ میں آئے بغیر منصوبے سے دستبردار ہوجائے اور معافی مانگ لے۔‘
پشار بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم پر گفتگو آگے بڑھی تو سوشل میڈیا صارفین تحریک انصاف حکومت کے ماضی میں کیے گئے اعلانات بھی سامنے لے آئے۔ ذیشان اشرف نامی صارف نے پی ٹی آئی کی گزشتہ صوبائی حکومت کا ایک اشتہار شیئر کیا۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’ کے پی کے کے سفید ہاتھی کی لاگت مزید بڑھے گی کنٹونمنٹ بورڈ نے حکومت سے زمین کے 3 ارب مانگ لیے۔ یہ ہیں پی ٹی آئی کی کارستانیاں۔‘
گفتگو میں شریک کچھ صارفین منصوبے پر ہونے والی تنقید کے پس پردہ وجوہات پر بات کرتے رہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اپوزیشن لیڈرز شہباز شریف بھی بی آر ٹی پشاور منصوبے کی بڑھتی لاگت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا تھا ‘اب تک نامکمل پشاور میٹرو کی لاگت لاہور، راولپنڈی/اسلام آباد اور ملتان بی آر ٹیز کی مشترکہ لاگت کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ وہ کام شروع ہی نہیں کرنا چاہیے جس کو آپ مکمل نہ کر پائیں۔ شہباز شریف کی اس تنقید کے جواب میں سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے چھوٹے میاں پر جواب بھی نشتر چلاتے ہوئے انہیں ملک واپس آنے کا مشورہ دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں اور اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے منصوبے پر تنقید کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنما، حامی اور حکومتی شخصیات بھی اپنا موقف سامنے لاتے رہے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ تیمور خان جھگڑا ایک ٹویٹ میں منصوبے کی لاگت اور اس کا دوسرے منصوبوں سے موازنے کرنے کو غیرحقیقت پسندانہ قرار دے چکے ہیں۔
کچھ صارفین پشاور بی آر ٹی منصوبے کے متعلق حالیہ اپ ڈیٹس شیئر کرتے رہے۔ احمد حسن نامی ٹوئٹر یوزر نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تمام سٹیشنز سمیت کوریڈورز کا سو فیصد کام مکمل ہو چکا، ایک مقام پر ڈپو اور آئی ٹی نظام کی تعمیر جاری ہے، اپریل تک منتقل کر دیا جائے گا۔
فواد چوہدری کی ٹویٹ کی حمایت کرنے والے صارفین کا موقف تھا کہ اتنے بڑے منصوبے میں تاخیر یا کچھ مسائل ہونا ممکن ہیں، مخالفین تنقید برائے تنقید کے ذریعے اپنی خفت چھپا رہے ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ کئی برسوں سے زیر تعمیر پشاور کے نواحی علاقے چمکنی سے حیات آباد تک 26 کلومیٹر پر مشتمل پی ٹی آئی حکومت کا بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ خیبرپختونخواہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ اکتوبر 2017 میں لگ بھگ 49 ارب روپے کے ابتدائی تخمینے سے شروع کیے گئے منصوبے کو سابق وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چھ ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن مبینہ بد انتظامی اور ٹھیکیداروں کی ناکامی کے باعث تاحال اس منصوبے پر کام مکمل نہیں ہو سکا۔
موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان نے فروری 2019 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 23 مارچ کو ہر صورت اس منصوبے کا افتتاح کریں گے لیکن حکومت اس دعوے میں بھی ناکام رہی۔ اب تک 6 دفعہ منصوبے کی تاریخ تکمیل میں تبدیلی کی جا چکی ہے اور اب ساتویں دفعہ مارچ 2020 میں منصوبہ مکمل ہونے کی نوید سنائی گئی ہے جس پر بھی عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button