پشاوردھماکے کا تحریک عدم اعتماد سے کیا تعلق بنتا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ پشاور کی امام بارگاہ میں بدترین دہشت گردی کا واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب کور کمانڈ پشاور کی تبدیلی کے بعد اپوزیشن کی جانب سے پشاور کی ایک اہم عسکری شخصیت پر سیاسی مداخلت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد ملکی سیاست میں جو سیاسی طوفان برپا ہوا یے اس کا آغاز بھی کور کمانڈر پشاور کی تبدیلی کے معاملے سے ہوا تھا اور تب سے ہی حزب اختلاف کی جانب سے بھی فوج کے غیر جانبدار ہو جانے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ سیاست میں حالیہ طوفان کو اسی تبدیکی کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ہائیبرڈ سیاسی بندوبست کے تحت جو بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا تھا، وہ لگتا ہے کہ نامرادی کے ہاتھوں بکھر رہا ہے اور وزیراعظم عمران خان ایسے ایسے ڈھونگیوں کے قدم چوم رہے ہیں جن کا کبھی انہیں نام سننا بھی گوارا نہیں تھا۔ امتیاز کہتے ہیں کہ روایتی پارلیمانی سیاست میں وزیراعظم پارلیمانی اکثریت ہی کی بنیاد پر اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے۔ وہ اگر اکثریت کا اعتماد کھو بیٹھے تو وزارت عظمیٰ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ لیکن کسی بھی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ماضی میں کبھی کامیاب نہیں رہی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خلاف تب کے طاقتور صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور پنجاب میں نواز شریف کی حکومت کی سر توڑ کوششوں کے باوجود عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوا تھا۔
انکا کہنا یے کہ درونِ خانہ جو رسہ کشی ہورہی تھی اس کا میں چشم دید گواہ اس لیے بھی ہوں کہ میرے بھائی ممتاز عالم گیلانی وزیراعظم کے چیف کوآرڈینیٹر تھے اور ایم این اے ہاسٹل میں براجمان تھے، جہاں غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے سیاستدان ڈالرز سے بھرے بیگ لیے پھر رہے تھے مگر کوئی جیالا بکنے کو تیار نہ ہوا۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ اِس وقت نوٹوں پر نہیں بلکہ مستقبل کی سیاست پر دائو لگ رہے ہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ تعداد سے زیادہ ممبران قومی اسمبلی ٹوٹے جا چکے ہیں اور اب اتحادی جماعتوں کے ووٹوں کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی گنتی پوری ہوگئی ہے اور ٹیلیفون کی گھنٹیاں بھی نہیں بج رہیں تو پھر عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معاملہ فقط وفاقی حکومت کا ہی نہیں بلکہ پنجاب اور پختونخوا کی حکومتوں کا بھی ہے۔ پنجاب میں بزدار حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی تو بہت ہی آسان نظر اتی ہے، لیکن اس میں جو رکاعٹ ہے وہ یہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی چند مہینوں کی وزارتِ اعلیٰ لینے پر تیار نہیں۔ لیکن ان کے بغیر بھی پنجاب میں عدم اعتماد کامیاب ہو سکتا ہے۔ البتہ خیبر پختونخوا میں ایسا ممکن نہیں ہو گا تاآنکہ بڑی بغاوت ہو جائے جو بعید القیاس نہیں۔
بقول امتیاز عالم، عمران حکومت کا اصل بحران اندرونی ہے، تحریکِ انصاف کے الیکٹ ایبلز حکومت کی خراب کارکردگی پر بہت نالاں ہیں اور اُنہیں اپنے سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے۔ وہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ کے خواہاں ہیں، لیکن جتنی درخواستیں ہیں اتنی اسامیاں خالی نہیں۔ پھر جہانگیر ترین کے ہم خیالوں کا گروپ پنجاب میں بڑی حصہ داری کے بغیر کیسے راضی ہوگا؟ آصف زرداری سیاسی جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر تو ہیں، لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب طاقت کا توازن بدلنے کے لیے بہت سارے لوگوں کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو ہر ایک کی خواہش پوری کرنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوگی کہ نہیں؟حقیقی سوال یہ ہے کہ وہ کیسے کامیاب کی جاتی ہے یا ناکام بنائیں جاتی یے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک دوسرے کے بندے توڑنے کے دعوے کررہے ہیں، جو پارلیمانی اخلاقیات اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ تحریک انصاف کے مخرفین یا لوٹوں کی مدد سے عمران حکومت کو چلتا کیا جاتا ہے تو اس کے پلے کوئی اخلاقی جواز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر وہ مستعفی ہوجاتے ہیں تو عمران حکومت اکثریت کھو کر خود بخود گر سکتی ہے۔ یا پھر اگر اتحادی جماعتیں علیحدہ ہوجاتی ہیں اور اپوزیشن سے مل جاتی ہیں تو عدم اعتماد کو اخلاقی جواز مل جاتا ہے۔ لیکن ایک جانب نواز لیگ پنجاب میں گجرات کے چوہدریوں کو سر پر بٹھانے کے لیے پرجوش نہیں تو دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ میں ایم کیو ایم کو زیادہ گنجائش دینے پہ راضی نہیں۔
بقول امتیاز عالم، ایسے میں جو بھی سیاسی تماشہ لگنے جارہا ہے، اس میں جمہوریت کی عصمت پر بڑے سوالات اُٹھیں گے، یہ علیحدہ بات ہے کہ جمہوریت کی عصمت تو ایک عرصہ سے اور بڑے تواتر سے لٹتی چلی آ رہی ہے۔ امتیاز کا کہنا یے کہ بہتر ہوتا اگر عمران حکومت کو قدرتی سیاسی انجام سے دوچار ہونے دیا جاتا اور وہ اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے پر خالی ہاتھ عوام سے رجوع کرتے۔ ’’تبدیلی‘‘ کی حکومت کی قبل از وقت روانگی درحقیقت عمران کو سُوٹ کرتی ہے، لیکن کس حد تک، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اس اہم سیاسی موڑ پر اگر کوئی پارٹی مستعدی سے کھیلی ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہے۔ ایک طرف آصف زرداری تمام تر سیاسی جوڑ توڑ میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، تو دوسری جانب بلاول بھٹو ایک زبردست لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں زبردست استقبال کے بعد وسطی پنجاب میں بلاول کو کتنا اچھا رسپانس ملتا ہے؟ لانگ مارچ کے آخری مرحلے میں جب بلاول راولپنڈی سے جلوس لے کر اسلام آباد میں داخل ہوں گے تو تحریک عدم اعتماد بھی غالباً پیش کی جا چکی ہوگی اور اگر اس میں اپوزیشن کو کامیابی مل گئی تو پیپلزپارٹی اسکا کریڈٹ لینے میں حق بجانب ہو گی۔
