پشاور میں کار پر فائرنگ سے جج، اہلیہ، بیٹی اور کمسن نواسہ جاں بحق

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج آفتاب آفریدی کو ان کی اہلیہ اور خاندان کے دو افراد سمیت نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔
یہ واقعہ اتوار کی شام چھ سے سات بجے کے درمیان موٹر وے پر ضلع صوابی کی حدود میں پیش آیا ہے۔ضلع صوابی میں پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ گاڑی میں موجود جج آفتاب ان کی اہلیہ، ایک اور خاتون اور بچی سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں گن مین اور ڈرائیور شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جج آفتاب اپنے اہلِ خانہ سمیت سوات سے آ رہے تھے۔
2162974 atcjusticeaftabafridikilldpeshawermain 1617559250 619 640x480 1
واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انبار انٹرچینج سے دس کلومیٹر آگے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ موٹر وے کی میں لائن پر دوسری جانب کی لائن سے گاڑی پر حملہ ہوا ہے۔ اس حملے میں جج آفتاب، ان کی بیوی ایک بچہ بھی ہلاک ہوا ہے۔ اس وقت آئی جی اور دیگر حکام جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ اور ہم علاقے میں سرچ کر رہے ہیں۔‘مقتولین کی لاشوں اور زخمیوں صوابی میں پاچا خان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا ہے۔
117841363 0f9330e9 f16c 42e1 9483 0702b89268e3
جج آفتاب آفریدی کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہو جانے والے قبائلی علاقے ضلع خیبر میں برقمبر خیل سے تھا۔انھیں رواں برس فروری میں ضلع سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ چیئرمین لیبر کورٹ تھے۔
جج آفتاب آفریدی کے عزیز اور پشاور ہار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی کے مطابق سنہ 199 میں سول جج بنے تھے اس سے پہلے ڈھائی سال تک سول لا کے لیکچرر رہے تھے۔ اس کے بعد وہ سینئر سول جج، پھر ڈسٹرک سیشن جج ایڈیشن ڈسٹرکٹ جج اور اب اے ٹی سی کے جج کے طور پر تو ڈیڑھ مہینے پہلے سوات آئے تھے۔ لیبر کورٹ کے چیئرمین سے ہٹ کر وہ اے ٹی سی کورٹ میں لگائے گئے۔‘
لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا کوئی حساس نوعیت کا مقدمہ نہیں جس کی وہ سماعت کر رہے وں یا فیصلہ نہیں جو انھوں نے حال ہی میں سنایا ہو لیکن جس انداز میں ان کو اور ان کے اہل خانہ کو قتل کیا گیا ہے اس میں اب دیکھا جائے گا کہ اس کی تفتیش سے کیا سامنے آتا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ موٹر وے پر واقعہ ہوا ہے اور اگر ذاتی دشمنی کی بات کی جائے تو ہم پٹھانوں میں یہ روایت نہیں کہ گھر کے بچوں اور خواتین کو بھی اس طرح قتل کیا جائے۔
117841364 1b26dcf6 b006 49e6 9a61 65480a7241fe
جج آفتاب آفریدی اسلام آباد سے سوات جا رہے تھے اسلام آباد میں ان کا ایک بیٹا اور بیٹی رہائش پذیر ہیں جو یہاں وکالت کے شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
کے پی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نور عالم ایڈوکیٹ نے گفتگو میں بتایا کہ اب تک ججز پر دہشت گردی کے آٹھ کے قریب حملے ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے سے لگتا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے تربیت یافتہ لوگ تھے۔انھوں نے کہا کہ پولیس اس کیس کی تفتیش میں دو اینگل دیکھے گی کہ کیا یہ ذاتی دشمنی میں تو نہیں ہوا یا پھر اس کا تعلق ان کی نوکری سے تھا۔انھوں نے کہا کہ جب کوئی شخص ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے جا رہا ہو اور اس پر حملہ کیا جائے تو اس نکتے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور جج آفتاب اسلام آباد سے سوات جا رہے تھے جہاں وہ ان دونوں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جج کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔‘
وکلا اور ججز کو الگ کریں تو تقریبا آٹھ کے قریب ججز کے اوپر حملے ہوئے اور بارہ سے لے کر اٹھارہ حملوں میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے جج آفتاب کے قتل کی مذمت کی ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے پولیس حکام کو واقعے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں پورا انصاف دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button