پشاور کے بعد کوئٹہ میں افغان طالبان کے حق میں ریلی

حال ہی میں خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں افغان طالبان کے حق میں ایک بڑی ریلی نکالے جانے کے بعد اب 13 جولائی کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن سے ملحقہ سرحدی راہداری پر افغان طالبان کے قبضے کے حق میں ایک بڑی نکالی گئی۔ اس ریلی کی ویڈیوز جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو بحث کا موضوع بن گئیں۔ بعض صارفین نے ریلی میں شریک افراد کو افغان طالبان قرار دیتے ہوئے ان کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے پر تنقید کی ہے تو کچھ نے اس ریلی کے حق میں اظہار خیال کیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی کا کہنا ہے کہ یہ ’ریلی ان کی جماعت کے کارکنوں نے طالبان کی افغانستان میں پے در پے فتوحات بالخصوص چمن سرحد کا کنٹرول حاصل کرنے کی خوشی میں نکالی۔ کوئٹہ کے نجم الدین روڈ سے نکالی گئی ریلی کے شرکا نے جناح روڈ، انسکمب روڈ اور زرغون روڈ جیسی اہم شاہراہوں کا بھی گشت کیا جہاں اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں۔ عبدالقادر لونی کے بقول ریلی میں شریک افراد افغان طالبان نہیں بلکہ پاکستانی اور ان کے جماعت کے کارکن تھے جنہوں نے افغان طالبان طرز کے سفید پرچم اٹھا رکھے تھے۔ واضح رہے کہ 13 جولائی کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سب سے اہم سرحدی گزرگاہ سپین بولدک پر افغان طالبان نے قبضہ کر کے اپنا پرچم لہرا دیا جس کے بعد سے پاکستان نے پاک افغان سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دی تھے۔ تاہم افغان حکام سے رابطے کے بعد پاکستانی سرحد آمدورفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ کے علاوہ افغان طالبان کی فتوحات اور پیش قدمی کے بعد چمن میں بھی ان کے حق میں ریلی نکالی گئی اور افغان سرحد تک جا کر ان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) کے رہنما عبدالقادر لونی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں خوشی ہے کہ افغان طالبان 20 سال بعد دوبارہ افغانستان میں ابھر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ خوشی طالبان کی جانب سے چمن سرحدی راہداری کا کنٹرول حاصل کرنے کی ہوئی جس پر ہم نے کوئٹہ اور چمن میں جشن منایا، ریلیاں نکالیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ایسی مذید جمعرات کو دوبارہ ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔ انکا کہنا تھا کہ اب افغانستان میں پاکستان کے دوست آ گئے ہیں تو ہم خوشی کیوں نہ منائیں۔‘
خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام سے الگ ہونے والا دھڑا ہے۔
افغان طالبان کی کھلم کھلا حمایت کرنے والا یہ دھڑا 2007 میں صوبائی قیادت سے اختلافات کی بنا پر رکن قومی اسمبلی مولانا عصمت اللہ کی قیادت میں الگ ہوا تھا۔
سنہ 2008 کے انتخابات میں اس تنظیم نے قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیابی بھی حاصل کی تھی۔ اگرچہ بعد میں مولانا عصمت اللہ واپس مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا حصہ بن گئے تاہم جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) نے اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔
تاہم سوسری جانب سوشل میڈیا پر رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ سمیت کئی صارفین نے افغان طالبان کے حق میں ریلی کے انعقاد پر تنقید کی ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’پشاور کے بعد کوئٹہ میں آزادانہ نقل و حرکت اور دن کی روشنی میں ریلیوں کا انعقاد پریشان کن ہے۔‘ مقامی صحافی باہوت بلوچ نے ریلی کی ویڈیو اس عنوان کے ساتھ شیئر کی کہ ’کوئٹہ میں افغان طالبان کے حق میں ریلی۔‘
مقبول جعفر نامی صارف نے اس حوالے سے لکھا کہ ‘طالبان کے حامی افراد کی کوئٹہ میں ریلی پاکستانی حکام کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔‘
اس سے چند روز قبل پشاور میں ایک ریلی کے دوران افغان طالبان کا پرچم لہرانے اور ان کے حق میں نعرے بازی کرنے پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو افراد کو گرفتار کیا جبکہ ایک مدرسہ بھی سیل کیا گیا۔ تاہم کوئٹہ میں پولیس یا ضلعی انتظامیہ نے اب تک اس معاملے کی بابت کچھ نہیں بتایا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ سے معلومات لینے کے بعد ہی اس معاملے پر تبصرہ کریں گے۔

Back to top button