پشاور ہائی کورٹ کا مفتی کفایت اللہ کی رہائی کا حکم

پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد سرکٹ بینچ نے جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
مفتی کفایت اللہ کے وکیل بلال خان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے بینچ نے ان کے موکل کے خلاف پولیس کی جانب سے قانون کی متعدد دفعات کے تحت درج تینوں کیسز میں ضمانت دے دی۔مفتی کفایت اللہ کے خلاف کیس پر ان کے وکیل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے اختتام کے بعد جسٹس شکیل احمد اور جسٹس احمد علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے مفتی کفایت اللہ کو وہ مقامی مجسٹریٹ کے پاس کورونا وائرس وبائی امراض سے متعلق حکومتی رٹ کو چیلنج نہ کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کہ حکم دیا۔
ایڈوکیٹ بلال خان نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ان کے موکل مفتی کفایت اللہ نے کورونا وائرس میں مرنے والوں کی تعزیت کے لیے آواز اٹھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان کے موکل کو کورونا وائرس کے سلسلے میں وقتا فوقتا حکومت کے جاری کردہ احکامات کی پابندی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔پولیس نے جے یوآئی (ف) کے رہنما کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنی پارٹی کے نائب ضلعی سربراہ شاہ عبد العزیز کی آخری رسومات کے بعد مانسہرہ قصبے سے ترنگری گاؤں میں اپنے گھر واپس جارہے تھے جو 14 اپریل کو کوڈ – 19 میں انتقال کر گیا تھا۔تورغر پولیس نے 13 افراد کے زخمی کرنے کے کیس مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہونے کے بعد 26افراد کو گرفتار کرلیا۔ڈسٹرکٹ اور سیشن جج جمال الدین خان نے باسی خیل قبیلے کے 20 افراد اور حریف ملاح قبیلے کے 6افراد کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کردی تھی۔
پولیس نے 26 افراد کے خلاف گزشتہ ہفتے مقدمہ درج کیا تھا جب شاگئی علاقے میں متنازع زمین پر ملاح قبیلے کی خاتون کی تدفین کو باسی خیل قبیلے کی جانب سے روکا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button