چوہدری خاندان مکمل تقسیم: ’پھوپھی بھتیجا آمنے سامنے آ گئے

صوبہ پنجاب کے بڑے سیاسی میدان گجرات میں چوہدریوں کی سیاست فی الحال منقسم ہوگئی ہے یعنی ’چوہدریز آف گجرات‘ اب ایک نہیں رہے۔  گجرات میں واقع چوہدری برادران کی معروف رہائش گاہ ظہور پیلس کے بیچوں بیچ ایک ٹینٹ کی دیوار بنا دی گئی ہے جو خاندانی تقسیم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے ایک طرف چوہدری پرویز الٰہی کا خاندان اور دوسری جانب چوہدری شجاعت کا خاندان موجود ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری شافع حسین کے مطابق ڈھائی سال پہلے چوہدری پرویز الٰہی نے فیصلہ کیا تھا کہ اب سیاست اپنی اپنی ہو گی لہذا اسی پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ چوہدری شجاعت حسین کے بڑے صاحبزادے چوہدری شافع حسین اور چھوٹے بیٹے چوہدری سالک حسین دونوں پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل ان کی پھوپھی اور چوہدری پررویز الٰہی کی بیوی قیصرہ الٰہی ہیں جنہیں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہے۔چوہدری پرویز الٰہی کے خاندان سے ہونے والی ناراضگی کے متعلق چوہدری شافع حسین نے بتایا کہ یہ اس وقت شروع ہوئی جب پرویز الٰہی نے چوہدری شجاعت حسین کو کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایت سے وزیراعلیٰ بننا چاہتا ہوں۔ جب چوہدری شجاعت نے نواز شریف اور باقیوں کو منایا تو چوہدری پرویز الٰہی دوسری طرف چلے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ’ ہم تو چاہتے تھے کہ ہمارا خاندان اکٹھا چلے مگر انہوں نے ڈھائی سال پہلے فیصلہ کر لیا تھا کہ سیاست اپنی اپنی۔‘

پرویز الٰہی کی واپسی سے متعلق چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ سیاست میں دروازے ہمیشہ کھلے ہونے چاہئیں۔چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی سے اختلافات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جب نئی نسل یہ سمجھے کہ میں ہی سب اوپر ہوں تو کبھی کبھی چیزیں خود ہی بدل جاتی ہیں۔‘خیال رہے کہ این اے 64 سے پاکستان مسلم لیگ سے چوہدری سالک اور پی ٹی آئی سے نامزد امیدوار قیصرہ الٰہی ہیں۔اس کے متعلق چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ ’ہمارے چوہدری خاندان میں رواج رہا کہ عورتیں پیچھے رہ کر سیاست کریں مگر انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے تو اس میں سالک صاحب کو کوئی خوشی تو نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری تو یہی خواہش ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی جیل سے واپس آئیں اور سب کچھ میرٹ پر ہو۔‘

جائیداد کی تقسیم کے لیے چوہدری شجاعت حسین کے خاندان کی جانب سے عدالت جانے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکم امتناعی لے لیا کہ آگے انتخابات ہیں اور ہر کوئی یہاں پر ظہور الٰہی پیلس میں اپنی اپنی حدود میں رہے۔‘مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ سے متعلق چوہدری شافع حسین نے بتایا کہ ’مجھ سمیت چوہدری سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ کی ان سے ملاقاتیں ہوئیں اور طے ہوا تھا کہ پنجاب میں آٹھ صوبائی اور چار قومی اسمبلی کی نشستوں پر سیٹ ایڈجسمنٹ ہو گی۔‘ دونوں جماعتوں کے درمیان طے ہوا تھا کہ ضلعوں میں ن لیگ اپنا امیدوار نہیں کھڑا کرے گی لیکن کچھ دنوں بعد ن لیگ نے ان حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹس دے دیے۔چوہدری شافع حسین نے بتایا کہ ’میں نے چوہدری سالک، چوہدری شجاعت اور طارق بشیر چیمہ نے فیصلہ کیا کہ اپنے امیدواروں سے لاتعلقی نہیں کر سکتے۔‘ ’ہم نے ن لیگ کو پیغام بھیجا کہ ہمیں گجرات میں بھی سیٹ ایڈجسمنٹ نہیں کرنی اور اگر ن لیگ یہاں اپنا امیدوار لانا چاہتی ہے تو لا سکتی ہے، اور یہ ہم نے ٹکٹس دینے کی تاریخ ختم ہونے سے پہلے بتایا۔‘

عام انتخابات کے بعد سیاسی اتحاد سے متعلق چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد پنجاب میں کوئی سیاسی جماعت اکیلے حکومت نہیں بنا سکے گی۔’انتخابات کے بعد ہمارا اتحاد پاکستان مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی یعنی آئی پی پی سے ہو سکتا ہے۔‘

Back to top button