پنجاب اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد متفقہ طور پرمنظور

پنجاب اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ‘تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت’ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر قادیانی جماعت کے سربراہ یہ تسلیم کر لیں کہ وہ غیر مسلم ہیں تو اُنہیں اقلیتی کمیشن میں شامل کر لیا جائے۔
قرارداد حکمراں اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے رکن پنجاب اسمبلی اور صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ختم نبوت کا معاملہ اُن کے لیے ریڈ لائن ہے۔ لہذٰا کسی کو اسے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حافظ عمار یاسر نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن اور حدیث کی کتابوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام اللہ کے آخری نبی تھے۔ لہذٰا اُن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جو یہ ایمان نہیں رکھتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
قرارداد میں قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کرنے کے فیصلے پر وفاقی حکومت کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ حافظ عمار یاسر کا کہنا تھا کہ قادیانی نہ تو آئینِ پاکستان کو مانتے ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل پاکستان میں اقلیتی کمیشن میں قادیانی رکن کو مبینہ طور پر شامل کرنے کے معاملے پر مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔بعدازاں وفاقی وزیر مذہبی اُمور نور الحق قادری نے کہا تھا کہ کسی قادیانی کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ البتہ چند وزرا نے اُنہیں شامل کرنے کی حمایت کی تھی۔
حافظ عمار یاسر کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم سب ناموس رسالت کے محافظ ہیں۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ کابینہ نے طے کیا کہ جب تک قادیانیوں کے سربراہ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ تب تک وہ اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں ہو سکتے۔بعدازاں مذکورہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔
پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین احمد نے قرارداد کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِس موقع پر اِس طرح کی قرارداد منظور کرنا بلا جواز تھا۔ جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ اگر حکومتی سطح پر اتنے بڑے ایوانوں میں یہ بات اُٹھے گی تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ معاشرے میں اِس کے کیا اثرات ہوں گے۔سلیم الدین احمدی نے کہا کہ یہ بات شروع اُس وقت ہوئی جب اقلیتی کمیشن کے حوالے سے بات ہو رہی تھی۔اُن کے بقول پہلے حکومت نے ایک موقف اپنایا پھر یوٹرن لے لیا۔ حالانکہ اس معاملے سے اُن کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ جماعت نے اس ضمن میں حکومت کو کوئی تجویز نہیں دی تھی۔سلیم الدین احمد کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کسی اقلیتی کمیشن کا حصہ نہیں بنے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ایک وزیر نے غیر ضروری طور پر اس معاملے کو اُچھال کر غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ جس پر اُنہیں افسوس ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کی رائے میں پاکستان میں موجودہ حکومت کے سربراہ سیاسی طور پر زیادہ تجربہ کار نہیں ہیں۔ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول عمران خان سیاست اور قومی معاملات میں بار بار مذہب کے حوالے دیتے ہیں۔ لہذٰا اس کا اثر اُن کی جماعت اور حکومت پر بھی پڑتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ احمدی برادری کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول پاکستان مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست ہے۔ لہذٰا اس میں مذہبی ذہن رکھنے والے افراد کا اثر و رسوخ ہے۔ اگرچہ الیکشن میں اُنہیں کامیابی نہیں ملی لیکن پھر بھی وہ طاقت رکھتے ہیں۔ لہذٰا حکومت کا رویہ ہمیشہ معذرت خوانہ ہوتا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ قادیانیوں کے خلاف پاکستان میں بہت زیادتیاں ہوئی ہیں۔ ان پر دہشت گرد حملے ہوئے اور اب بہت سے قادیانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ جو رہ گئے ہیں ان کی زندگی بھی بہت مشکل ہے۔
