پنجاب حکومت نے کروڑوں کی بسیں سکریپ کے بھاؤ بیچ دیں

وزیر اعظم عمران خان کے بچت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بزدار حکومت نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی دو ارب روپے مالیت کی 200 سے زائد بسیں ایک وفاقی وزیر کو سکریپ کے بھاؤ فروخت کر دی ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ہربس کو صرف 7 سے 8 لاکھ روپے میں مصری شاہ لوہا مارکیٹ کے بیوپاریوں کو فروخت کیا گیا ہے جو کہ وفاقی وزیر برائے تجارت حماد اظہر کے فرنٹ مین بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی سے خرید کر مصری شاہ لائی جانے والی بسیں دیکھنے میں بالکل درست حالت میں نظر آرہی ہیں جنہیں اب ادھیڑ کر کاٹنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بسوں کی حالت تو ٹھیک تھی لیکن یہ سی این جی بسیں تھیں چنانچہ ملک میں بڑھتے ہوئے سی این جی کے بحران کے باعث ان کو چلانا مشکل ہوگیا تھا چنانچہ انہیں فروخت کر دیا گیا۔
تاہم باخبر ذرائع کے مطابق ہر وہ بس جو سی این جی پر چلتی ہے دراصل پٹرول سے بھی چل سکتی ہے لہذا حکومت کے اس موقف میں کوئی وزن نہیں کہ ان بسوں کو سی این جی نہ ہونے کی وجہ سے سکریب کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تمام بسیں درست حالت میں تھیں جن کی تزئین و آرائش کر کے انہیں دوبارہ استعمال میں لایا جاسکتا تھا لیکن کمائی کے حصول کیلئے تقریبا دو ارب روپے مالیت کی 200 سے زائد بسوں کو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کر کے عوام سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی چھین لی گئی ہے۔
بسیں خریدنے والے مصری شاہ لوہا مارکیٹ کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ ایک بس کی قیمت ایک کروڑ روپے سے زائد ہے۔ جسے انھوں نے 7سے8لاکھ روپے میں فی بس کے حساب سے خریدا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یہ بسیں ناکارہ کھڑی تھیں اور جگہ نہ ہونے کے باعث انہیں فروخت کیا گیا ہے تاہم ان بسوں کوچلا کر یہاں لایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے انجن بھی بالکل درست حالت میں تھے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسیں سکریپ میں فروخت کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک سال میں 200کے قریب قیمتی بسیں سکریپ میں فروخت کردی ہیں۔ پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہبازشریف حکومت نے شہریوں کو سستی اور آرام دہ سفری سہولت کیلئے جدید بسیں بیرون ملک سے منگوائی تھیں،سابقہ دور میں لاہور کے 29روٹس پر ایل ٹی سی کی بسیں شہریوں کو سستی اور معیاری سفری سہولت فراہم کررہی تھیں، انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دو ماہ قبل لاہور میں ایل ٹی سی کے 29 روٹس اچانک بند کردئیے، ن لیگی ذرائع کا الزام ہے کہ ایل ٹی سی کی بسیں وفاقی وزیر حماد اظہر کی سٹیل مل کو سکریپ کے ریٹ پر فروخت کی گئی ہیں، چنانچہ چیئرمین نیب ایک کروڑ سے زائد مالیت کی بس 7 لاکھ میں فروخت کرنے کا نوٹس لیں۔ انہوں نے وزیر اعلی عثمان بزدار، وفاقی وزیر حماد اظہر اور صوبائی وزیر ٹرانسپوٹ جہازیب کھچی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری طرف پنجاب حکومت ترجمان کا کہنا ہے کہ ایل ٹی سی کی بسیں پنجاب حکومت کی نہیں بلکہ ایک نجی کمپنی کی ملکیت ہیں۔ حکومت نے نجی کمپنی کو روٹس دئیے تھے جس کا 8 سالہ معاہدہ پورا ہو چکا ہے اور اب کمپنی ان بسوں کو بیچنے کی خود ذمہ دار ہے نہ کہ پنجاب حکومت۔ حکومتی ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ روٹس پر پنجاب حکومت "سپیڈو” بسیں چلا رہی ہےاور پنجاب حکومت لاہور سمیت مختلف شہروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئی "الیکٹرک وہیکل پالیسی” کےتحت 300 "الیکٹرک ہائبرڈ” بسیں خرید رہی ہے جس سے ناصرف شہریوں کےسفر میں آسانی پیدا ہو گی بلکہ آلودگی اور "سموگ” کا بھی سدباب ہو گا
