پنجاب حکومت کا عمران کے لانگ مارچ کا حصہ بننے سے انکار

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اگلے چند روز میں حکومت مخالف لانگ مارچ کی کال دینے کے اعلان کے ساتھ ہی وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الٰہی لندن روانہ ہو گئے ہیں جسکے بعد اب سیاسی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا انکی صوبائی حکومت لانگ مارچ کا حصہ بنے گی یا نہیں؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پنجاب کے سیانے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی وفاقی حکومت کے خلاف عمران کے لانگ مارچ کا حصہ بننے سے گریز کریں گے، کیونکہ سابق وزیر اعظم کا بنیادی ہدف وفاقی حکومت سے زیادہ فوجی اسٹیبلشمنٹ لگتی ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر عمران خان نے لانگ مارچ کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے روکنے کے لیے اسلام آباد میں فوجی دستے تعینات کر دیے جائیں گے۔ ایسے میں ساری زندگی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر سیاست کرنے والے پرویز الٰہی کے لیے عمران کے ساتھ کھڑا رہنا ممکن نہیں رہے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس مشکل صورت حال سے بچنے کے لیے پرویز الٰہی بیرون ملک روانہ ہوگئے ہیں۔ لیکن اس بات میں وزن اس لیے نہیں لگتا کہ عمران نے لانگ مارچ 12 ربیع اول کے بعد رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے اگلے ہفتے واپس آنے کا امکان ہے۔
اسی دوران تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ اگر عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو پنجاب حکومت اس کا حصہ نہیں بنے گی۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا پنجاب حکومت لانگ مارچ میں حصہ لینے والوں کو سہولیات فراہم کرے گی؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’دیکھیں سہولیات نہیں دی جائیں گی۔ ہم احتجاج کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں کریں گے کیونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور حکومت کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اردو نیوز کے ساتھ انٹرویو میں وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے کہا کہ ’اگر بطور ہوم منسٹر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو ہمارا کام یہ ہو گا کہ جتنے لوگ بھی لانگ مارچ کے لیے نکلیں گے ہم انہیں سکیورٹی مہیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں ایک جم غفیر ہو گا لہٰذا اس میں لوگوں کو سکیورٹی دینا ضروری ہے۔ لانگ مارچ میں تمام سڑکیں جام ہونے کا امکان ہے لیکن ہم نے زندگی کے معمولات بھی چلانے ہیں۔ اسکے علاوہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی سپلائی لائن کو بھی دیکھنا ہے۔ لہذا اگر حکومت ہی لانگ مارچ کا حصہ بن گئی تو پھر معمولات زندگی کیسے چلیں گے؟
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت مخالف تحریک کے آخری مرحلے میں ایک مرتبہ پھر اگلے چند دنوں میں لانگ مارچ کی کال دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومت کو فوری الیکشن کروانے پر مجبور کیا جا سکے۔ دوسری جانب شہباز شریف حکومت پہلے ہی عمران خان کا یہ مطالبہ سختی سے رد کر چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت کی آئینی معیاد اگست 2023 میں پوری ہونی ہے اور اس سے پہلے الیکشن نہیں کروائے جاسکتے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ویسے بھی اس وقت آدھے سے زیادہ پاکستان سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے لہذا سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فوری الیکشن کا انعقاد ممکن ہی نہیں۔ لیکن قومی اسمبلی سے استعفے دینے والے عمران کی سوئی فوری نئے الیکشن کے مطالبے پر اڑی ہوئی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت وہ عوامی مقبولیت کے جس لیول پر پہنچے ہیں اس میں آنے والے مہینوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے، لہٰذا اگر فوری الیکشن ہو جائیں تو وہ جیت کر دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ عمران دراصل اپنے خلاف زیر التوا کیسوں میں نااہلی اور گرفتاری کے خوف کا شکار ہیں لہٰذا وہ ایسے کسی واقعے سے پہلے ہی موجودہ حکومت کو گھر بھجوانا چاہتے ہیں۔ اپنا یہ مطالبہ لے کر انہوں نے پچھلے دنوں ایوان صدر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایک خفیہ ملاقات بھی کی تھی لیکن فوجی سربراہ نے ان کا یہ مطالبہ رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ الیکشن کروانا فوج کا کام نہیں اور ویسے بھی موجودہ حکومت کی مدت اگست 2023 میں ختم ہو گی۔
