پنجاب حکومت کا نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ

نجاب کابینہ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی ضمانت میں 8 ہفتے کی توسیع کی درخواست مسترد کردی۔وزیراعلی عثمان بزدار کی زیر صدارت لاہور میں پنجاب کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی۔خصوصی کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کیں جن کی روشنی میں پنجاب کابینہ نے نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت کے معاملے پر پنجاب کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں چیف سیکریٹری اعظم سلیمان نے نوازشریف کی ضمانت پر گفتگو کا آغاز کیا جب کہ سیکریٹری داخلہ مومن آغا نے کابینہ کو ضمانت کے معاملے کی کارروائی پر بریف کیا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ کے 7 وزرا نے نواز شریف کی ضمانت کی بھرپور مخالفت کی جب کہ اہم وزرا خاموش رہے، اس کے بعد تمام وزرا نے حتمی فیصلے کا اختیار وزیر اعلیٰ کو دیا۔
اجلاس کے دوران ڈاکٹر اختر ملک اپنی ہی حکومت پر برس پڑے اور کہا کہ پنجاب حکومت نے غلط رپورٹس بنائیں اور غلط رپورٹس کے باعث نوازشریف باہر چلے گئے۔اس موقع پر وزیر صحت یاسمین راشد نے کابینہ میں وضاحت پیش کی کہ کوئی غلط رپورٹ نہیں بنائی گئی۔بعدازاں کابینہ ارکان نے متفق ہوکر کہا کہ جو فیصلہ وزیر اعلیٰ کریں ہمیں قبول ہوگا جب کہ ساتھ ہی تجویز بھی پیش کی کہ وفاقی حکومت کی رائے بھی لے لی جائے۔کابینہ ارکان کی رائے پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ وفاقی حکومت آن بورڈ ہے اور تمام کاروائی سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام شواہد کے بعد نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں دے سکتے۔
وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کابینہ کے اجلاس کے بعد لاہور میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے نوازشريف کی ضمانت کی توسيع کی درخواست مسترد کردی ہے، پنجاب کابينہ کے فيصلے کے بارے ميں وفاق کوخط لکھ رہے ہيں، خصوصی کميٹی نے نوازشريف کی مزيد رپورٹس مانگی تھيں جو فراہم نہیں کی گئیں۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کیس میں سزا پانے والے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی درخواست ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا کہ نواز شریف کی طرف سے ہم سے ملاقات کےلیے عطااللہ تارڑ صاحب تشریف لائے اور ہم نے ان سے تفصیلی بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی تجاویز کی روشنی میں آپ معاملے کی وضاحت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عطااللہ تارڑ صاحب کی درخواست پر نواز شریف کے ڈاکٹر عدنان سے اسکائپ پر رابطہ ہوا تو ہم نے ان سے بھی یہی درخواست کی لیکن انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہم جو رپورٹس آپ کو بھیج چکے ہیں، اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی رپورٹ موجود نہیں لہٰذا آپ جو بھی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں وہ انہی رپورٹس کی روشنی میں کر لیں۔
راجہ بشارت نے بتایا کہ اس کے بعد ہماری کمیٹی کے اجلاس ہوئے اور ڈاکٹرز سے تفصیلی مشاورت کے بعد کمیٹی نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ میاں نواز شریف کی ضمانت میں مزید توسیع نہیں ہوسکتی اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ابتدائی طور پر عدالت کا فیصلہ 8ہفتے کےلیے تھا لیکن حکومت پنجاب کی جانب سے طلب کی گئی رپورٹس سمیت دیگر مراحل میں مزید 8ہفتے گزر گئے یعنی ضمانت میں 16ہفتے تک توسیع ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمانت میں 16ہفتے کی توسیع کے بعد حکومت پنجاب معاملے میں پیش رفت جاننے کی خواہاں تھی تاکہ اگر کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو اس کی بنیاد پر ضمانت میں کوئی توسیع کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی مریض علاج کے سلسلے میں جاتا ہے تو وہ اسپتال میں داخل ہوتا ہے لیکن اب تک نوازشریف صاحب کسی اسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔
ان کاکہنا تھا کہ رانا ثنااللہ نے چند دن قبل کہا کہ نواز شریف صاحب کا علاج ہونے جا رہا ہے لیکن جب ہم نے ڈاکٹر عدنان سے دریافت کیا کہ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اگلے ڈیڑھ دو ہفتے میں اس کو لائن اپ کیا ہوا ہے اور کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے صوبائی سربراہ کہہ رہے ہیں کہ 24تاریخ کو آپریشن ہونے جا رہا ہے لیکن نہ 24کو آپریشن ہوا اور نہ ہی لندن سے کوئی اطلاع دی گئی ہے کس تاریخ کو ان کے دل کا آپریشن ہونے جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ یہ معاملے کو ٹالنے والی بات ہے اور حکومت پنجاب یہ معاملہ کابینہ میں لے کرگئی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ درخواست ضمانت میں مزید توسیع نہ کی جائے کیوں کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے اس معاملے میں قانونی، طبی اور اخلاقی لحاظ سے ضمانت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کو پنجاب کابینہ کے فیصلے سے آگاہ کر رہے ہیں کہ پنجاب حکومت ضمانت میں توسیع نہیں کر رہی اور اب وفاقی حکومت نے آگے اس معاملے کو لے کر چلنا ہے کیوں کہ یہ ضمانت بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کی تھی اور ٹرائل کورٹ بھی وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا 26 واں اجلاس جس میں پنجاب کابینہ نے تمام جزئیات، معروضی حالات اور میڈیکل رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ طور پر نواز شریف کی توسیع و معطلی سزا کے حوالے سے درخواست مسترد کردی۔
پنجاب کابینہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی وزرا راجہ بشارت اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی سربراہی میں 11 فروری کو خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن میڈیکل بورڈ اور خصوصی کمیٹی کی طرف سے بارہا یاد دہانی کے باوجود مطلوبہ میڈیکل رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں۔
کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ 19، 20 اور 21 فروری کو کمیٹی کے یکے بعد دیگرے تین اجلاس منعقد ہوئے اور 21فروری کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ خود اور ڈاکٹر عدنان اسکائپ پر شریک ہوئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نواز شریف کے نمائندوں نے نئی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس جمع کرانے کے بجائے پرانی میڈیکل رپورٹس کو ہی حتمی قرار دینے پر اصرار کیا۔ پنجاب کابینہ کے اجلاس کے دوران خصوصی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی اور کابینہ نے نواز شریف کی درخواست برائے توسیع و معطلی سزا کو اتفاق رائے سے مسترد کردیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 26 اکتوبر کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا گیا تھا اور مزید مہلت کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button