پنجاب حکومت گراتے تو وفاق کے سلیکٹڈ خود ہی بھاگ جاتے

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ جمہوری انداز میں تحریک کیسے چلانی ہے، یہ صرف ہم جانتے ہیں۔ جلسوں اور ٹرینوں میں کٹھ پتلی حکومت کو للکارا، اسی تسلسل کو لے کر پنجاب حکومت گراتے تو وفاق کے سلیکٹڈ خود ہی بھاگ جاتے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اتحادیوں سے مل کر یا اکیلے ہی اپوزیشن کیلئے تیار ہے۔ ہم کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔
نوڈیرو میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقد پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جو بھی ہوا، بڑے مقصد کی لڑائی کے لیے سب کچھ بھولنے کو تیار ہوں۔ شہید محترمہ نے انہی لوگوں کے ساتھ کام کیا جنہوں نے آصف زرداری پر تشدد کیا اور جلا وطن کیا تھا۔ یہ صرف جمہوریت کی بحالی کے لیے کیا گیا تھا۔ آج دس سال بعد ہم واپس یوسف رضا گیلانی کو پارلیمان بھیج رہے ہیں۔ انہی جماعتوں نے یوسف رضا گیلانی کو نااہل کیا، آج انہی کے ووٹوں سے سینیٹر بھی بنے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی نظام ایکسپوز ہو چکا تھا، اسی تسلسل کو آگے لے کر چلنا چاہیے تھا۔ عمران خان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شکست دی۔ پیپلز پارٹی کی پوری تنظیم نے لانگ مارچ کے لیے بڑی محنت کی تھی۔ اسی ماحول میں لانگ مارچ ہونا تھا۔ پنجاب میں سلیکٹڈ وزیراعلیٰ کو گرا کر آگے بڑھتے اور اسلام آباد پہنچتے تو یہ خود ہی بھاگ جاتے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم صوبہ پنجاب کی عوام کو نااہل اور ناجائز حکومت سے بچا سکتے تھے۔ افسوس میری سمجھ سے باہر ہے کہ کیسے اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا شروع کر دی۔ اپوزیشن اس موقع پر عمران خان کو بھول گئی۔ آج بھی زور دیتے ہیں کہ کٹھ پتلی سرکار کو موقع نہ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی برابری اور عزت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔ سی ای سی اجلاس میں پھر سے استعفوں کے معاملے کو رکھیں گے۔ تاہم پیپلز پارٹی مل کر اور تنہا بھی اپوزیشن کرنے کو تیار ہے۔ سلیکٹڈ حکومت کو نہیں چھوڑیں گے، ہر جرم کا حساب لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو امید تھی کہ لڑیں گے تو کامیاب ہونگے۔ مقابلہ کرنے کے لیے تو کوئی صیح طریقے سے تیار نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی نے لڑ کر اپنے ساتھیوں کو دکھایا۔ عمران خان کے اتحادیوں، ان کے اپنے ممبران اسمبلی سے بات کرکے اس کو شکست دلوائی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور آئی ایم ایف کی ڈیل کے نتیجے میں ہر پاکستانی کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور ہمیں پاکستان کے عوام کے لیے ووٹ کی آزادی کو بحال کرتے ہوئے انہیں معاشی آزادی بھی فراہم کرنی ہے۔نوڈیرو میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے 50سال سے زائد عمر کے تمام افراد سے درخواست کی کہ وہ خود کو رجسٹر کرا کے ویکسین لگوائیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے والد آصف زرداری کو کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے لیے بہت مشکل سے منایا تھا، انہوں نے پہلا شاٹ لگوا لیا ہے اور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر کارکن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بزرگوں کو لازمی کورونا وائرس کی ویکسین لگوائیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 50سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو کورونا وائرس کی ویکسین لازمی لگوانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے بھی والد صدر آصف زرداری کو ویکسین لگوانے کے لیے بڑی مشکل سے منایا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے 50سال سے زائد عمر کے تمام افراد سے درخواست کی کہ وہ خود کو رجسٹر کرا کے ویکسین لگوائیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے والد آصف زرداری کو کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے لیے بہت مشکل سے منایا تھا، انہوں نے پہلا شاٹ لگوا لیا ہے اور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر کارکن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بزرگوں کو لازمی کورونا وائرس کی ویکسین لگوائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس صوبے کے عوام کی قربانی کی وجہ سے یہ وبا جب پہلے آئی تھی تو پابندیوں پر عمل کر کے آپ نے جس طرح خود کو تحفظ فراہم کیا تھا، اسی طرح ہم نے کورونا ویکسین پر زور دینا ہے تاکہ ہم اس وبا سے نکل سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف تمام پاکستانیوں کو اس وبا سے خطرہ ہے تو دوسری جانب ہم تین سالوں سے ایک حکومت کا مقابلہ کرتے آ رہے ہیں اور اس حکومت کو سلیکٹڈ کا نام اپنے ہی دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہماری انتخابی مہم ہی اس بات پر مبنی تھی کہ ان قوتوں کا مقابلہ ہے جن کی یہ کوشش ہے کہ کٹھ پتلی نظام لے کر آئیں لیکن اس نظام کو لانے کا مقصد کیا ہے؟ان کا کہنا ہے کہ اس کٹھ پتلی نظام کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ شہید شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 30سالہ جدوجہد کے نتیجے میں آپ نے ذوالفقار علی کے 1973 کے جس آئین کو بحال کیا اور جو کامیابیاں حاصل کیں، ان کو ختم کیا جا سکے اور اس کے لیے سازشیں آج بھی جاری ہیں۔انہوں نے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن، عہدیداران، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے ان ساری قوتوں کے دباؤ، سازشوں اور کوششوں کے باوجود آپ ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مؤقف اور اپنے نظریے پر قائم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ہر پاکستانی کو ووٹ کا حق دلوا کے، جمہوریت کی بنیاد ڈال کر سیاسی آزادی دلوائی اور غریب کو آواز، کسان کو زمین اور مزدور کو صنعت کا مالک بنا کر معاشی آزادی دلوائی اور آج بھی ہمیں پاکستان کے عوام کے لیے ناصرف سیاسی آزادی حاصل کرنی ہے، جمہوری آزادی حاصل کرنی ہے، بولنے، لکھنے اور سوچنے کی آزادی حاصل کرنی ہے جو ہر پاکستانی کا حق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ووٹ کی آزادی کو تحفظ دلانا ہے اور بحال کرنا ہے اور وہ معاشی آزادی بھی دلانی ہے جو ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اور آئی ایم ایف کی ڈیل کے نتیجے میں ہر پاکستانی کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، تو آج ہر پاکستانی کو ہمیں مہنگائی، بیروزگاری، غربت سے آزادی دلانی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ جمہوری و انسانی حقوق کی بات ہو یا معاشی حقوق کی بات ہو، اگر پاکستان کے عوام کو یہ حقوق ملے ہیں تو صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ملے ہیں اور کسی دور میں نہیں ملے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان جیسے باصلاحیت ملک پر اتنا نالائق، نااہل اور کٹھ پتلی مسلط کیا گیا ہے کہ جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو پچھلے تین سال میں جتنا نقصان پہنچا، پاکستان کی تاریخ میں معیشت کو کبھی اتنا نقصان نہیں پہنچا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے قبل ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھر کا وعدہ کرنے والے عمران خان نے تینن سال میں عوام کو تاریخی بیروزگاری میں دھکیل دیا ہے اور عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے جن کے پاس روزگار تھا، آج ان کے پاس روزگار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل کی سلیکٹڈ حکومت ہو یا ماضی کی دوسری حکومتیں ہوں، جب بھی حکومت میں آئیں تو پاکستان کے عوام کو بے روزگاری بھگتنی پڑی ہے، آج ہم ناصرف تاریخی بیروزگاری بلکہ تاریخی مہنگائی بھی بھگت رہے ہیں، اس قسم کی مہنگائی کسی نے کبھی نہیں دیکھی۔انہوں نے مہنگائی پر حکومت کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ہم جنگ لڑ رہے تھے تو اس وقت بھی ہماری معاشی صورتحال کا یہ حال نہیں تھا، جب آدھا پاکستان ہم سے کاٹا گیا تھا تب بھی ہماری معاشی صورتحال ایسی نہیں تھی، اب خان صاحب کی کٹھ پتلی حکومت کے صرف تین سال کے اندر پاکستان کی معاشی شرح نمو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منفی 0.4 پر پہنچ گئی ہے، آزادی سے لے کر آج تک پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خان صاحب کے دور میں ہماری معاشی ترقی بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی کم ہے اور ہماری مہنگائی کی شرح وہ افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھی زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آئینی اور قانونی طور پر تمام صوبوں کو ان کا حق اور ان کے وسائل کا مالک بنایا، این ایف سی ایوارڈ کے مطابق انہیں جو حصہ ملنا چاہیے وہ دلوایا تھا لیکن ہمارے بعد نہ ایف سی ایوارڈ پر صوبوں کو ان کا حق دیا، نہ 18ویں ترمیم کے مطابق ان کے حق دلائے اور پھر صوبوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے ہاں اتنی پسماندگی، غربت اور ترقی اتنی کم کیوں ہے، وہ اس لیے کہ وہ صوبے کو ان کا حق نہیں دیتے اور پھر ان کو طعنہ دیتے ہیں آپ اتنے غریب کیوں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خود جدوجہد کرنی ہو گی اور جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت کا حق چھینا اور پاکستان کے غریب عوام کے غریبوں کا حق چھینا ویسے ہی آج پیپلز پارٹی کے جیالوں کو اپنا جمہوری اور معاشی حق چھیننا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک وہ جمہوری طریقہ کار جو شہید بے نظیر بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے اپناتی رہی ہے جو ایک کامیاب ماڈل ہے اور دوسرا ماڈل نو ستارے والا ماڈل اور پی این اے والا ہے، وہی ماڈل تھا جو عمران نے اپنایا تھا اور وہی ماڈل ہے جو دوسروں نے ماضی میں اپنائے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس ماڈل کا خطرہ یہ ہے کہ آپ ناصرف اپنے عوام کو حقوق نہیں دلوا پاتے، جمہوریت لانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے بلکہ آپ ایسے بحران پیدا کرتے ہیں کہ جس سے آمریت قائم ہوتی ہے اور جس سے کسی تیسری یا غیرجمہوری قوت کو موقع ملتا ہے جیسے نو ستارے والی تحریک کے بعد ذولفقار علی بھٹو اور پورے ملک کے ساتھ ہوا تھا یا جو عمران کے ڈرامے والے دھرنے اور کٹھ پتلی سیاست کے بعد آپ سب بھگت رہے ہیں۔
