پنجاب میں جرائم 2 فیصد کم: لیکن مریم کا 80 فیصد کمی کا دعوی

 

 

 

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے 2024 کے مقابلے میں 2025 کے دوران صوبے میں جرائم کی شرح میں 70 سے 80 فیصد کمی کا دعوی سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں جھوٹا ثابت ہو گیا ہے۔ اگرچہ مریم نواز یہ دعویٰ بارہا عوامی جلسوں، تقاریب اور بیانات میں دہرا چکی ہیں، تاہم پنجاب پولیس کے اپنے جاری کردہ اعداد و شمار انکے جرائم میں 70 سے 80 فیصد کمی کی تائید نہیں کرتے۔

 

پنجاب پولیس کے 2024 اور 2025 کے تقابلی کرائم ڈیٹا کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبے میں مجموعی طور پر رپورٹ شدہ جرائم میں صرف 2 فیصد کے لگ بھگ کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ 70 یا 80 فیصد کمی کے دعوے سے کوسوں دور ہے۔ یہ اعداد و شمار یکم جنوری سے 31 دسمبر 2024 اور یکم جنوری سے 29 دسمبر 2025 تک کے رپورٹ شدہ مقدمات پر مشتمل ہیں، جنہیں پنجاب پولیس ہیڈ کوارٹرز کی سطح پر مرتب کیا گیا۔

 

وزیراعلیٰ پنجاب نے 6 دسمبر 2025 کو گوجرانوالہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی سی سی ڈی کے قیام اور سی سی ٹی وی کیمروں کے استعمال کے باعث پنجاب میں جرائم میں 80 فیصد تک کمی آ چکی ہے اور صوبہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں طویل عرصے تک ایک بھی جرم رپورٹ نہیں ہوتا۔ اسی نوعیت کا دعویٰ وہ 19 نومبر 2025 کو بھی دہرا چکی ہیں، جب انہوں نے سی سی ڈی کو پنجاب میں امن و امان کی صورتحال میں انقلابی بہتری کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ تاہم اگر پنجاب میں جرائم کے مجموعی گراف کو دیکھا جائے تو صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اگرچہ بعض سنگین جرائم کی مخصوص کیٹیگریز میں کمی ضرور ریکارڈ کی گئی، مگر اہم شعبوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث سال بھر میں صوبہ پنجاب میں مجموعی طور پر جرائم میں صرف دو فیصد کمی واقع ہوئی۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے نمایاں کمی اجتماعی زیادتی کے کیسز میں دیکھی گئی، جہاں 2024 کے مقابلے میں 2025 میں تقریباً 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ڈکیتی یا راہزنی کے دوران قتل کے واقعات میں بھی تقریباً 42 فیصد کمی سامنے آئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ 2025 میں سینکڑوں ایسے مجرموں کو ماورائے عدالت جعلی پولیس مقابلوں میں پار کر دیا گیا جو ریپ اور ڈکیتی کے دوران ریپ جیسے کیسز میں ملوث تھے۔ لیکن اس کے برعکس خواتین کے اغوا یا لاپتہ ہونے کے کیسز اور منشیات کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ مجموعی کرائم گراف کو تقریباً وہیں لا کھڑا کرتا ہے جہاں وہ گزشتہ سال موجود تھا۔

 

مریم نواز کے دعوؤں کا مرکز اپریل 2025 میں قائم کیا گیا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ہے، جسے سنگین اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فورس کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ سی سی ڈی کو ڈکیتی، راہزنی، اغوا برائے تاوان، اجتماعی زیادتی، پولیس اہلکاروں پر حملے اور بھتہ خوری جیسے جرائم سے نمٹنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق یہی یونٹ جرائم میں 70 سے 80 فیصد کمی کا اصل محرک ہے۔ تاہم پولیس کے اپنے ڈیٹا کے مطابق سی سی ڈی کے دائرہ اختیار میں آنے والے جرائم میں بھی ایسی کوئی کمی ریکارڈ نہیں کی گئی جو 70 یا 80 فیصد کے دعوے کو درست ثابت کر سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی مخصوص یونٹ کی کارکردگی واقعی اتنی غیر معمولی ہوتی تو اس کا واضح اور قابلِ پیمائش اثر مجموعی کرائم گراف میں نظر آتا، جو کہ موجودہ اعداد و شمار میں دکھائی نہیں دیتا۔

 

دوسری جانب، سی سی ڈی کے قیام کے بعد پنجاب میں پولیس مقابلوں میں اچانک اضافے نے ایک اور تشویشناک بحث کو جنم دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ جرائم میں نمایاں کمی کا تاثر دینے کے لیے پولیس نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کو ایک نئی حکمت عملی کے طور پر اپنایا ہے۔ حالیہ مہینوں میں متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں مبینہ خطرناک ملزمان پولیس مقابلوں میں مارے گئے، مگر ان مقابلوں کی شفاف تحقیقات یا عدالتی نگرانی کے شواہد سامنے نہیں آ سکے۔

ناقدین کے مطابق اگر جرائم واقعی 70 سے 80 فیصد کم ہو چکے ہیں تو پھر پولیس مقابلوں اور ہلاکتوں میں اضافے کی کیا توجیہہ ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی وقتی طور پر خوف کی فضا پیدا کر کے اعداد و شمار کو قابو میں دکھانے کی کوشش ہو سکتی ہے، مگر طویل المدتی طور پر یہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام کو کمزور کرتی ہے۔

 

قانونی ماہرین اس بات کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں کہ جرائم کی حقیقی شرح جانچنے کے لیے صرف پولیس مقابلوں یا چند مخصوص جرائم میں کمی کو بنیاد بنانا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ اصل پیمانہ مجموعی کرائم ٹرینڈ، مقدمات کا اندراج، تفتیش، سزاؤں کی شرح اور عوام کا پولیس پر اعتماد ہوتا ہے، جو کہ محض دعوؤں سے قائم نہیں ہوتا۔ نتیجتاً، سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا 2025 میں جرائم میں 70 سے 80 فیصد کمی کا دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر رپورٹ شدہ جرائم میں کمی 2 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ کئی اہم جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں یہ دعویٰ نہ صرف مبالغہ آرائی پر مبنی ہے بلکہ عوام کو ایک ایسی تصویر دکھانے کی کوشش بھی ہے جو سرکاری ڈیٹا سے ثابت نہیں ہوتی۔

Back to top button