پنجاب میں لاک ڈاؤن، دکانیں شام 5 بجے بند کرنیکا فیصلہ

سندھ حکومت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اب پنجاب حکومت نے بھی صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بدھ یکم اپریل سے دکانیں شام 5 بجے کے بعد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق پنجاب میں اشیائے ضروریہ کی تمام دکانیں کھولنے کا اوقات کارکو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں بروز بدھ مورخہ یکم اپریل سے اشیائے ضروریہ کی دکانوں کا وقت صبح نو سے شام پانچ بجے تک مقرر کیا گیا ہے تاہم میڈیکل سٹورز اور فارمیسی کو اس سے اسثتنیٰ ہوگا۔اس سے قبل پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں کورونا وائرس کے سدباب کیلئے لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کیلئے اشیائے ضروریہ کی تمام دکانیں صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت پنجاب نے لاک ڈاؤن میں مزید سختی لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کل سے گروسری، جنرل اسٹورز اور کریانے کی دکانیں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔میڈیکل اسٹور اور فارمیسی کو نئے اوقات کار کی پابندی سے استثنا حاصل ہوگا۔ پابندی کی خلاف ورزی پر کورونا آرڈیننس کے تحت سزا دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ فیصلہ عوام کی صحت اورزندگی کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے 23 مارچ کو صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ اہم فیصلہ صوبائی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس بات کا اعلان وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے باضابطہ طور پر پریس کانفرنس میں کیا۔اہم اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انسداد کرونا کیلئے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلہ کیا گیا کہ 24 مارچ سے 6 اپریل تک صوبے بھر کے شاپنگ مالز، بازار، دکانیں، پارکس، ریسٹورینٹس اور ایسی عوامی اجتماعات والی تمام جگہیں بند ہونگی۔ان کا کہنا تھا کہ عوام سے التماس ہے کہ وہ ان 14 روز میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں اور فوج کیساتھ تعاون کریں۔ 14 روز کیلئے سول اور فوجی ادارے احکامات پر عملدرآمد کے پابند ہونگے۔ عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صورتحال کے پیش نظر ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی تاہم فیلمیاں اس فیصلے سے مستثنیٰ ہونگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو نہیں ہے۔ صوبے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔یہ سوال کہ کیا لاک ڈاؤن کا دورانیہ بڑھایا بھی جا سکتا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جائے گا۔ اگر صورتحال بہتر رہی تو لاک ڈاؤن کو پہلے بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 144کے تحت گرفتار افراد کو جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تمام چیزیں کنٹرول میں ہیں۔ چین سے آئے ڈاکٹرز اور سائنسدانوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ حالات سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل کو بروئےکار لائیں گے۔ ہمیں اپنی ٹیسٹ کرنے کی استعداد بڑھانی چاہیے۔ کٹس میں خود کفیل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنتے زیادہ مریضوں کے ٹیسٹ ہوں گے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ سماجی فاصلہ رکھیں اورگھروں میں رہیں۔
