پنجاب میں مافیا اور فتنہ کی کوئی گنجائش نہیں،مریم نواز کا علمائے کرام سے خطاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہر ظالم اور مافیا کے لیے پنجاب کی زمین تنگ کر دی گئی ہے اور کسی بھی فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لاہور میں علمائے کرام میں اعزازیہ کارڈز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئمہ کرام کی خدمت کرنا ان کے لیے اعزاز ہے، جبکہ امام مسجد معاشرے اور نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 70 ہزار بینک اکاؤنٹس کھل چکے ہیں، آئمہ کرام کو 25 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا، جو سالانہ 20 ارب روپے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروری سے اعزازیہ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے فراہم کیا جائے گا اور اس منصوبے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ فتنہ کی سرکوبی میں علمائے کرام کا کردار ناگزیر ہے، دین کے نام پر فتنہ پھیلانا کھلی خیانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر کئی افراد نے فساد کو فروغ دیا، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو شہید کیا گیا، عوام کی املاک نذرِ آتش کی گئیں اور راستے بند کیے گئے، اگر یہ فتنہ نہیں تو پھر فتنہ کیا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ فتنہ، ظلم اور زیادتی کسی بھی شکل میں ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست شہدا کے خون کا حساب لے گی اور عوام کی جان و مال اور قومی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل وقت میں لوگ مذہب کی طرف رجوع کرتے ہیں، جبکہ قرآن و حدیث میں فساد کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ مذہبی منافرت کی حوصلہ شکنی اور اپنی صفوں کی اصلاح وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے میں ڈالا کلچر اور خواتین کی بے حرمتی کا خاتمہ کیا گیا ہے اور کسی بھی فتنہ کو سر اٹھانے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹریفک قوانین پر سختی عوام کو ناپسند ہے، تاہم اس کا مقصد عوام کی بہتری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے انہیں کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا اور وہ شہریوں کا چالان کرنے کی خواہش نہیں رکھتیں۔
