پنجاب میں میڈیکل سٹوڈنٹس کو امتحانات کے بعد پرموٹ کرنے کا فیصلہ

پنجاب میں میڈیکل کے طالب علموں کو بغیر امتحانات پروموٹ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔
صوبہ پنجاب کے تمام میڈیکل یونیورسٹیوں کےوائس چانسلرز نے فیصلہ کیا ہے کہ میڈیکل کے طالب علموں کو بغیر امتحانات کے پاس نہیں کیا جائے گا۔ فیصلہ طالب علموں کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے منعقد اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں وائس چانسلرز نے موقف اختیار کیا کہ میڈیکل ایک خصوصی شعبہ ہے اس شعبےکے طالب علموں کو پچھلے امتحانات کی بنیاد پر اگلی سٹیج پر نہیں بھیجا جا سکتا۔ اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ طالب علم جون میں میڈیکل کے ضمنی امتحانات دیں گے۔ جبکہ کالجز میں داخلے کیلئے ٹیسٹ ستمبر تک لئے جا سکتے ہیں۔ اجلاس میں وائس چانسلرز نے یقین دلایا کہ امتحانات کے دوران تمام تر ایس او پیز کو نافذ کیا جائے گا اور ریمارکس دیئے کہ اگر لوگ عید کی شاپنگ کرسکتے ہیں تو امتحانات کی تیاری بھی کرسکتے ہیں۔تمام یونیورسٹیوں کیلئے بھی یہی پالیسی تشکیل دی گئی ہے کہ بغیر امتحانات کے میڈیکل کے طالب علموں کو پروموٹ نہ کیا جائے۔
واضح رہے حکومت نے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طالب علموں کو پرموٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود کا کہنا تھا کہ نویں اور گیارہویں جماعت کا رزلٹ رکھنے والے طلباء کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کر دیا جائے گا، گیارہویں اور بارہویں کا ایک ساتھ امتحانات دینے والے طلباء کے مخصوص امتحانات ستمبر اور نومبر میں ہوں گے، گیارہویں کے رزلٹ سے نہ مطمئن، گیارہویں کا رزلٹ نہ رکھنے والے اور چند مضامین کا امتحانات دینے کے خواہشمند طلباء بھی مخصوص امتحانات میں حصہ لے سکیں گے۔جمعرات کو وفاقی وزیر تعلیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص امتحانات میں حصہ لینے والے طلباء یکم جولائی تک اپنے تعلیمی بورڈز کو آگاہ کر دیں، مخصوص امتحانات لینے کا فیصلہ بھی اس وقت حالات کا جائزہ لے کر کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button