پنجاب میں گندم کے بحران میں شدت آگئی

پنجاب میں گندم بحران میں شدت کے بعد مختلف اضلاع میں گندم کا ریٹ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں 2300، لاہور میں 2250، راجن پور میں 2200، رحیم یار خان میں 2100 روپے فی من گندم فروخت کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ خوراک رواں سال 45 لاکھ ٹن گندم کا ہدف پورا نہیں کر سکا تھا، ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کم ہو گئی ہے اور اس کا ریٹ بڑھا دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حکم دیا گیا تھا کہ گندم کو سرکاری گوداموں سے نکال کر مارکیٹ میں لایا جائے اور سستے داموں فروخت کیا جائے۔ گندم کے متوقع بحران سے نمٹنے کےلیے وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو خصوصی ہدایات کرتے ہوئے بیورکریسی کا مشورہ نظر انداز کر دیا تھا۔
افسران کی جانب سے وزیراعظم کو گندم کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے اسے اکتوبر میں مارکیٹ میں لانے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم وزیراعظم نے اس کو نظر انداز کرتے ہوئے سرکاری گوداموں میں پڑی گندم کو مارکیٹ میں لانے کا حکم دیدیا تھا۔ انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ آپ فوری طور پر گندم مارکیٹ لائیں اکتوبر میں دیکھی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر اکتوبر میں ضرورت پڑی تو صورت حال کے مطابق گندم درآمد کر لیں گے فی الحال سستے بازار اور پوائنٹس بنا کر لوگوں کو سستا آٹا فراہم کیا جائے۔
تاہم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے بعد اب پنجاب میں جس گندم بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا وہ پیدا ہو گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں اب گندم کی کمی ہونے کی وجہ سے گندم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی میں 2300، لاہور میں 2250، راجن پور میں 2200، رحیم یار خان میں 2100 روپے فی من گندم فروخت کی جا رہی ہے جب کہ اس کی وجہ بتائی گئی ہے کہ محکمہ خوراک رواں سال 45 لاکھ ٹن گندم کا ہدف پورا نہیں کر سکا تھا، ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کم ہوگئی ہے اور اس کا ریٹ بڑھا دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button