پنجاب کابینہ و بیوروکریسی میں بڑی تبدیلیاں متوقع

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کابینہ میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی اور آئی جی پنجاب سمیت پولیس میں بھی بڑے عہدوں پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور چیف سکیرٹری کو اسلام آباد طلب کر لیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے دورہ امریکہ سے واپسی پر پنجاب میں بدانتظامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب کی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ میں متوقع تبدیلیوں کے تحت متعدد وزراء کو فارغ کرکے نئے وزراء لایا جائے گا جبکہ کارکردگی نہ دکھانے والے وزراء کے قلمدان تبدیل کر دئیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق سابق صوبائی وزیر سبطین خان کی رہائی کے بعد ان کو بھی کابینہ میں شامل کئے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے وزیر اعظم پنجاب میں پے در پے پولیس تشدد کے واقعات سامنے آنے پر آئی جی پنجاب سے خفاں ہیں جس کی وجہ سے آئی جی پنجاب سمیت پولیس میں بھی بڑے عہدوں پر تبدیلیاں متوقع ہیں جبکہ پنجاب کی بیوروکریسی میں بھی متعدد افسران کو تبدیل کیا جائے گا، ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لایا جارہاہے جو گزشتہ حکومت میں پولیس اور بیوروکریسی میں اہم کردارادا کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزداراور وزیراعظم کی ون ٹو ون ملاقات میں پنجاب میں کی جانے والی متوقع تبدیلیوں پر مشاورت کی جائے گی جبکہ وزیراعظم نے چیف سیکریٹری پنجاب، آئی جی اور وزیر قانون کو بھی اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا جا رہا ہے جس کے تحت میاں اسلم اقبال سے اطلاعات کا اضافی قلمدان واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب بلدیات اور جنگلات کا نیا وزیر لگانے کا فیصلہ بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں تین سے چار وزراء کے قلمدان اور محکمے تبدیل کیے جا رہے ہیں جبکہ دو نئے چہروں کو بھی وزارتوں سے نوازا جا رہا ہے اسی طرح دو نئے چہرے پنجاب کابینہ میں شامل ہوں گے اور انہیں وزیر بنایا جا رہا ہے۔ ۔
شہباز گل اور عون چودھری کی فراغت کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبائی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کر لیا۔ عثمان بزدار کی ہدایت پر مختلف صوبائی وزراء کے خلاف مختلف الزامات کی انکوائریاں شروع کر دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق جلد پنجاب کی صوبائی کابینہ سے 4 سے 5 وزراء کے قلمدانوں کی تبدیلی کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ کے کچھ ارکان کیخلاف مبینہ الزامات پرجاری انکوائریوں کی رپورٹس کی بنیاد پر پنجاب کابینہ میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے چار پارٹی امیدواروں کے گرد سرخ دائرہ لگا دیاہے۔
وزیراعظم عمران خان نے چار پارٹی رہنماوں علیم خان، میاں اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت اور محسن لغاری کی طرف سے وزارت اعلیٰ کا امیدوار بننے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اورچاروں امیدواروں کی نگرانی کا فیصلہ کیاہے۔ ذرائع کے مطابق میاں اسلم اقبال سے بھی وزارت اطلاعات واپس لئے جانے کا امکان ہےکیونکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب عون چودھری اور ترجمان شہباز گل کو بھی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب میں ڈینگی وباء پھیلنے پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیا ہے اورمتعلقہ محکمے کے افسران کو بھی تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے جب کہ ان کی جگہ وبا پر قابو پانے کے ماہر افسران کو لایا جائے گا۔
واضح رہےکہ رواں ماہ ہی پنجاب حکومت میں ردو بدل کیا گیا تھا جس کے تحت وزیراعلیٰ کے ترجمان شہباز گل نے عہدے سے استعفیٰ دیا جب کہ مشیر عون چوہدری کو فارغ کیا گیا تھا۔
