پیپلز پارٹی مریم کی پنجاب حکومت میں عملا شامل ہو گئی

 

 

 

پنجاب میں ایک طویل عرصے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان پاور شیئرنگ پر جاری اختلافات ختم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی بالآخر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اقتدار میں عملی طور پر شریک ہو گئی ہے۔ نئی پیش رفت کے مطابق پیپلز پارٹی نے پنجاب کابینہ میں وزارتیں لینے کی بجائے ضلعی سطح پر قائم کی گئی خصوصی ہم آہنگی کمیٹیوں میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان شرکتِ اقتدار سے متعلق جاری کشیدگی بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں میں شمولیت کے باوجود انہیں مستقبل قریب میں بھی اپنے تمام مطالبات پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز وقتی دباؤ کے تحت معاہدوں پر عمل درآمد کا وعدہ تو کر لیتی ہیں، مگر حالات معمول پر آنے کے بعد اکثر ان وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق پنجاب کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب طویل عرصے سے جاری اختلافات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اقتدار میں حصہ دار بننے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ تاہم یہ شراکت روایتی انداز میں کابینہ کی وزارتوں کے ذریعے نہیں بلکہ ضلعی سطح پر قائم کی گئی خصوصی ہم آہنگی کمیٹیوں کے ذریعے ہوگی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے کے آٹھ اضلاع میں قائم کی گئی ضلعی ہم آہنگی کمیٹیوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان شرکتِ اقتدار کے حوالے سے جاری کشیدگی بڑی حد تک ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

خیال رہے کہ ضلعی ہم آہنگی کمیٹیوں کے اختیارات میں ضلعی ترقیاتی پروگرام کی نگرانی، سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل میں معاونت اور سرکاری محکموں کے خلاف عوامی شکایات کے ازالے جیسے امور شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں ہر پندرہ دن بعد اجلاس منعقد کریں گی اور ہر اجلاس کی رپورٹ وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری کو پیش کی جائے گی۔ ان کمیٹیوں میں مسلم لیگ (ن) کے وزرا اور قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ ساتھ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس افسران اور مختلف سرکاری محکموں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت دراصل گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان گورنر ہاؤس میں متعدد ملاقاتیں ہوئیں جن میں دونوں جماعتیں ایک قابلِ عمل فارمولے پر غور کرتی رہیں۔ بالآخر ایک ایسے طریقہ کار پر اتفاق ہوا جس کے تحت پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ترقیاتی فنڈز میں حصہ اور ضلعی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

پیپلز پارٹی کے وسطی پنجاب کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات احسن رضوی کے مطابق پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ ضلعی سطح پر ایسی کمیٹیاں قائم کی جائیں تاکہ پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز اور عہدیدار عوامی مسائل کے حل اور سرکاری معاملات میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام پہلے ہو جانا چاہیے تھا، تاہم فی الحال صرف آٹھ اضلاع میں نوٹیفیکیشن جاری کیے گئے ہیں جبکہ اصل منصوبے کے مطابق پنجاب کے تمام 41 اضلاع میں ایسی کمیٹیاں قائم ہونی تھیں۔

 

سیاسی ماہرین کے مطابق اس نئی شراکتِ اقتدار کا مقصد پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی منصوبوں میں حصہ دینا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوگا بلکہ پنجاب کی سیاست میں بھی ایک نئی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ سینیئر سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق پیپلز پارٹی نے اس بار ایک مختلف اور دلچسپ سیاسی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ان کے بقول ضلعی سطح پر اقتدار میں شمولیت سے پارٹی کو دو بڑے فائدے حاصل ہوں گے۔ پہلا فائدہ یہ کہ پیپلز پارٹی کو گراس روٹ سطح پر اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔ اب ترقیاتی منصوبے صرف مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی یا وزرا کے ذریعے ہی نہیں دئیے جائیں گے بلکہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز اور مقامی رہنما بھی عوامی مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکیں گے۔سلمان غنی کا مزید کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کے ذریعے پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی سیاسی بنیادیں دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سلمان غنی کے بقول دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ترقیاتی فنڈز اور ضلعی سطح پر اثر و رسوخ تو حاصل کر لیا ہے، لیکن وہ ابھی بھی وفاق اور پنجاب کی کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومتی کارکردگی یا پالیسیوں پر تنقید ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست سیاسی دباؤ زیادہ تر مسلم لیگ (ن) پر ہی آئے گا جبکہ پیپلز پارٹی عوامی غیض و غضب سے محفوظ رہے گی۔

کیا مولانا فضل الرحمن خلیل افغانستان صلح کروانے گئے ہیں؟

سیاسی مبصرین کے بقول اگرچہ یہ پیش رفت دونوں جماعتوں کے درمیان ایک بڑی سیاسی مفاہمت سمجھی جا رہی ہے، تاہم پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق انہیں ابھی بھی اپنے تمام مطالبات پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بعض اوقات سیاسی دباؤ کے تحت معاہدوں پر عمل درآمد کا وعدہ تو کر لیتی ہیں، لیکن دباؤ کم ہونے پر بعض وعدوں پر پیش رفت سست پڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ ضلعی سطح پر ہم آہنگی کمیٹیوں میں شمولیت پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب میں اپنی سیاسی موجودگی مضبوط کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی یہ قدم سیاسی اتحاد کو برقرار رکھنے اور صوبے میں حکومتی استحکام قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 

Back to top button