پن بجلی گھروں نے حکومت کے ساتھ پرانے معاہدوں پر نظر ثانی سے انکار کردیا

جہاں حکومت انڈپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) برائے تھرمل و قابل تجدید بجلی گھروں کے ساتھ دستخط ہونے والے مفاہمتی یادداشت کے تحت ٹیرف میں ڈسکاؤنٹ کو معاہدے کی شکل دینے کےلیے جدوجہد کر رہی ہے ویں پن بجلی گھروں (ایچ پی پیز) کے اسپانسرز نے حکومت کے ساتھ پرانے معاہدوں پر نظر ثانی کرنے سے انکار کردیا۔
ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ سابق وفاقی سکریٹری بابر یعقوب کی زیر قیادت آئی پی پیز مذاکراتی کمیٹی اوور ایچ پی پیز کے 3 سے 4 مرتبہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں جس میں اسٹیک ہولڈرز کے ممبران اور حکومت کی جانب سے تقرر کی گئیں ایجنسیاں بھی شامک تھیں تاکہ بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جاسکے تاہم ابھی تک کسی چیز کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ ایچ پی پیز کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ ‘انہوں نے مذاکراتی کمیٹی کے تیار کردہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ حکومت کسی بھی ٹیکنالوجی (فرنس آئل، گیس، کوئلہ، شمسی اور ہوا وغیرہ) سے قطع نظر تمام آئی پی پیز پر جھاڑو پھیر رہی ہے اور ایکوئٹی ریٹرن، آپریشن اور بحالی کے اخراجات اور دیگر میں کمی لانے کی خواہاں ہے جب کہ بجلی پیدا کرنے والی تمام ٹیکنالوجیز مختلف ہیں۔ ان ذرائع نے بتایا کہ تھرمل، ہوا اور شمسی توانائی سے چلنے والے پلانٹس میں 85-90 فیصد پلانٹ اور مشینری کی لاگت اور بقیہ 10-15 فیصد سول ورکس کے طور پر شامل ہیں تاہم دوسری جانب پن بجلی گھر لگ بھگ 80 فیصد سول ورکس اور باقی 20 فیصد پلانٹ اور مشینری لاگت پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایچ پی پیز کی عمر طویل 6 سے 8 سال ہوتی ہے جب کہ دیگر ٹیکنالوجیز کی 2 سے 3 سال ہوتی ہے۔ ہائیڈرو پاور کےک مقامی معیشت پر کئی فوائد ہیں جن میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی تعمیراتی مواد کی صنعتوں کو فروغ دینا شامل ہے تاہم اعلی سول ورکس کی وجہ سے حتمی تعمیراتی لاگت غیر متوقع ہوجاتی ہے۔ حکومتی ٹیم کو بتایا گیا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صرف مخصوص اور مختص لاگت کی اجازت دی ہے، لاگت کے بڑھنے پر اسپانسرز کو اس کی اجازت نہیں دی گئی، اس طرح فوری طور پر ایکوئٹی ریٹرن کو کم بھی کیا جانا چاہیے۔
نیپرا عام طور پر 17 فیصد کی داخلی شرح ریٹرن (آئی آر آر) کی اجازت دیتا ہے تاہم اسپانسرز کا اصرار ہے کہ کسی بھی ایچ پی پی نے یہ حاصل نہیں کیا اور زیادہ تر 11-13 فیصد آئی آر آر تک ہی حاصل کر پاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کمیٹی کو اپنی سوچ کو بہتر کرنا ہوگا اور اس شعبے میں درکار مستقبل میں ہونے والی سرمایہ کاری پر نظر ڈالتے ہوئے ہر پیداواری ٹکنالوجی پر الگ الگ غور کرنا ہوگا۔ اس وقت تقریبا 340 میگاواٹ کے تین ایچ پی پیز کام کر رہے ہیں جب کہ 10 ایچ پی پیز جن میں سے چند پاک چین اقتصادی تعاون (سی پیک) کے تحت ہیں، زیر تعمیر ہیں جن میں 2027 میں 3 ہزار 750 میگاواٹ اور 2028 میں ایک ہزار 200 میگاواٹ مکمل ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button