پوسٹ مارٹم میں ارشد شریف کے جسم سے گولی برآمد

سینئر صحافی ارشد شریف کے پمز اسلام آباد میں ہونے والے پوسٹ ماٹم کے دوران ان کے سینے سے ایک گولی برآمد ہونے کے بعد انکا کینیا میں کیا جانے والا پوسٹ مارٹم مشکوک ہو گیا ہے، پوسٹ مارٹم کے دوران گولی کی برآمدگی نے میڈیکل حکام کو حیرت میں مبتلا کر دیا اور نیروبی میں ہونے والے پوسٹ مارٹم کی ساکھ پر بھی سوال کھڑے کر دیئے، بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کے دوران میڈیکل بورڈ کے ارکان کو ایک ’دھات کا ٹکڑا‘ ملا جسے صاف کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ تو گولی قرار ہے۔ پاکستانی حکام نے ارشد شریف کے سینے سے برآمد ہونے والے دھاتی ٹکڑے کی فرانزک جانچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، انہیں امید ہے کہ اس سے یقینی طور پر قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی نوعیت کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق 26 اکتوبر کو ارشد شریف کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کے 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے مزید تحقیقات کے لیے یہ ٹکڑا پولیس کے حوالے کر دیا تھا، گولی کا برآمد ہونا تنازعات میں گھرے پُراسرار قتل کی تحقیقات میں پیش رفت کے لیے اہم کڑی سمجھا جارہا ہے۔
تحقیقات سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ یہ گولی اصل قاتل تک پہنچنے میں تحقیقاتی اداروں کی مدد کر سکتی ہے۔ لیکن ان کے مطابق یہ بات حیران کن ہے کہ نیروبی میں ارشد شریف کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والوں نے اس گولی کو جسم کے اندر ہی چھوڑ دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایس او پیز کے تحت پوسٹ مارٹم کے بعد کبھی بھی گولیاں جسم کے اندر نہیں چھوڑی جاتیں اور اس کی برآمدگی نے نیروبی میں حکام کی جانب سے کیے گئے پوسٹ مارٹم کو مشکوک بنا دیا ہے کیونکہ جن کو جسم میں موجود گولی کا بھی پتہ نہیں چلا انہوں نے کیا پوسٹ مارٹم کیا یو گا۔
گولی کو جسم سے نکال کر فرانزک جانچ کے لیے تفتیش کاروں کے حوالے کر دیا گیا ہے، اس جانچ سے قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی نوعیت کا تعین کرنے میں مدد ملے گی جوکہ قاتلوں کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ یے کہ قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار کینیا میں ہے اور اس سے چلائی جانے والی گولی پاکستان میں ہے، جب تک انہیں ایک جگہ اکٹھا نہ کیا جائے تب تک گولی کو ہتھیار سے ملانا ایک مشکل کام ہو گا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی دو رکنی ٹیم پہلے ہی کینیا روانہ ہو چکی ہے جو وہاں 15 روز تک کام کرے گی لہذا اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ارشد شریف کے جسم سے نکالی جانے والی گولی کو بھی کینیا بھجوا دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ ارشد شریف کو سینے اور سر پر دو گولیاں لگیں۔ سینے پر زخم کے نشان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولیاں عقب سے اور کافی نزدیک سے چلائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جسم کے اگلے حصے میں گولی کا زخم ممکنہ طور پر پیچھے سے فائر کی گئی گولی کے باہر نکلنے کی وجہ سے ہوا، کمر پر گولی کے زخم کے گرد ہلکا سا سیاہ نشان پایا گیا ہے جو صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب گولی 4 فٹ یا اس سے کم فاصلے سے چلائی گئی ہو۔ اس لیے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ارشد شریف کو گولی مارنے والا گاڑی کے اندر ہی موجود تھا اور یہی انکی موت کو مشکوک بناتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کی کھوپڑی کے اوپری حصے پر گولی کے نشانات پائے گئے اور کھوپڑی کا بڑا حصہ ٹوٹا ہوا پایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد کے سینے سے برآمد ہونے والی گولی پہلے اسلام آباد کی فرانزک سائنس لیبارٹری یا لاہور میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھیجی جائے گی اور اسکے بعد اسے کہنا بھجوایا جائے گا جہاں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیشن پہنچ چکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ارشد شریف کے دل، پھیپھڑے، جگر، تلی اور معدے سمیت جسم کے مختلف حصوں سے لیے گئے نمونے پہلے ہی لاہور کی فرانزک سائنس ایجنسی کو پیتھالوجی اور ٹاکسیکولوجی ٹیسٹ کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔
