پولیس پر فائرنگ کرنے پرٹی وی اینکر اسد کھرل گرفتار


لاہور پولیس نے بول ٹی وی کے اتھرے اینکر اسد کھرل کو ایک پولیس افسر پر فائرنگ کرنے، انہیں اور ایک کانسٹیبل کو یرغمال بنانے اور ان کا سرکاری اسلحہ چھیننے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے متعدد سنگین الزامات کے تحت اسد کھرل کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی اور 29 جولائی کی رات پولیس کمانڈوز کی مدد سے انہیں ان کی ولینسیا ٹاؤن میں رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا۔ ملزم اب مقامی عدالت کی منظوری کے بعد چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق عید سے ایک رات پہلے ملزم اسد کھرل نے اپنی رہائش گاہ پر تعینات سرکاری پولیس گارڈ سے بدسلوکی کی اور اسے اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا۔ لاہور پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل اشفاق احمد کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اینکر پرسن نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، انہیں اپنے گھر میں یرغمال بنایا، سرکاری اسلحہ چھینا، ان پر فائرنگ بھی کی جس میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔ پولیس نے مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 392 بھی شامل کی جس میں ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے ڈکیتی کے جرم کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اسد کھرل کے خلاف لگائی گئی دفعات میں میں پی پی سی کی دفعہ 353 یعنی کسی سرکاری ملازم کو اس کی ذمہ داری سے روکنے کے لیے حملہ کرنا، دفعہ 342 یعنی کسی شخص کو حبس بے جا میں رکھنا، دفعہ 324 یعنی اقدام قتل اور دفعہ 186 یعنی سرکاری ملازم کو ڈیوٹی سے روکنا شامل ہیں۔
پولیس اہلکار اشفاق احمد نے الزام لگایا کہ وہ پولیس کانسٹیبل ادریس کے ساتھ اسد کھرل کی رہائش گاہ پر سرکاری ڈیوٹی دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسد کھرل نے کانسٹیبل ادریس کو گالیاں دیں، اس پر جسمانی حملہ کیا اور اسکی وردی پھاڑ دی۔ اس کا کہنا ہے کہ جب اس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو ملزم نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر کاہنہ سرکل اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد شعیب مسلح اہلکاروں کے ہمراہ جائے وقوع پرپہنچ گئے۔ اسد کھرل اے ایس پی کو اپنی رہائش گاہ کے اندر لے گئے اور پولیس گارڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ ایف آئی آر نے شکایت کنندہ کے حوالے سے بتایا کہ ‘اچانک مشتبہ شخص نے مجھ سے میری سرکاری رائفل چھینی اور میری اور طرف اور اے ایس آئی کی طرف تان دی’۔ کانسٹیبل نے بتایا کہ اینکر پرسن نے کمرے کو اندر سے بند کردیا، انہیں یرغمال بنایا اور ان پر اور اے ایس پی پر فائرنگ کر دی۔ ہم اپنی جان بچانے کے لیے فوری طور پر لیٹ گئے اور دروازہ کھول کر باہر بھاگ نکلے، ملزم نے ہمارا پیچھا کیا اور اپنی رہائش گاہ کے باہر بھی ہم پر فائر کیا’۔
دوسری طرف کے موقف کے مطابق اینکرپرسن اسد کھرل نے اپنی حفاظت کے لیے ان کی رہائش گاہ کے باہر تعینات پولیس کانسٹیبلز پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ایک وائس نوٹ کے ذریعے لاہور کے سی سی پی او سے شکایت کی تھی کہ ان کی رہائش گاہ کے باہر چند نامعلوم افراد کی مشتبہ نقل و حرکت کی وجہ سے گزشتہ چند روز سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ سی سی پی او کو اپنی شکایت میں اسد کھرل نے کہا کہ ان کی حفاظت کے لیے تعینات پولیس کانسٹیبل اپنی ڈیوٹی صحیح طرح انجام نہیں دے رہے ہیں۔ جب یہ واقعہ سامنے آیا تو اسد کھرل نے پولیس کی جانب سے خود پر لگائے گئے الزامات مسترد کردیے۔تاہم پولیس کی بھاری نفری نے اسد کھرل کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کرلیا۔
لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے بتایا کہ ‘ملزم چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہے’۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے 2017 میں عدالتی احکامات پر اسد کھرل کی سیکیورٹی کے لیے کانسٹیبلز کا دستہ تعینات کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تین روز سے یہ شخص چھوٹے چھوٹے امور پر سیکیورٹی عملہ کے ساتھ بد سلوکی کر رہا تھا اور پھر 20 جولائی کو آپے سے باہر ہو گیا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ ‘اس واقعے سے چند روز قبل اینکر پرسن کی سکیورٹی کے لیے تعینات کانسٹیبلز نے ان کے توہین آمیز رویے کا معاملہ سینئر پولیس حکام کے سامنے اٹھایا تھا لیکن ہم نے ان کو نظرانداز کردیا تھا’۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود اے ایس پی اور پولیس کانسٹیبل کو یرغمال بنانے اور پھر ان پر براہ راست فائرنگ کرنا ناقابل برداشت ہے۔ یہ ملک ایک قانون کے تحت چلتا ہے لہذا کوئی شخص کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو، قانون توڑنے پر اس کے خلاف کاروائی ہوگی اور اسے سزا بھگتنا ہو گی۔

Back to top button